خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 590 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 590

خطبات مسرور جلد 13۔590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء بڑے جوان ہمت تھے اور خود چل کر پرانے احمدیوں سے ملنے جایا کرتے تھے۔خطبات اور خطابات با قاعدگی سے سنتے ، لوگوں تک پہنچاتے۔آخر دم تک اپنے عہد بیعت کو نبھایا۔اور اخلاص و وفا کے ساتھ نبھایا۔جلسہ سالانہ ربوہ اور یو کے میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔تمام مربیان جو بھی ان کے ساتھ رہے، اور جو لوگ بھی رہے انہوں نے ان کے غیر معمولی اخلاص اور مربیان سے حسن سلوک کی بڑی تعریف کی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ان کی شاید صرف ایک بیٹی احمدی ہے باقی بچے احمدی نہیں۔اس بات کا ان کو بڑا افسوس تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو بھی احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی دعاؤں اور نیک خواہشات کو ان کی اولاد کے حق میں پورا فرمائے۔ان کے احمدیت قبول کرنے کا واقعہ بھی اسی طرح ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص ایک مولوی کے ساتھ بحث کر رہا ہے۔اس کو اللہ اور رسول کا واسطہ دے کر کچھ بتا رہا ہے اور مولوی اس کو کافر کافر کہے جا رہا ہے۔آخر پتا لگا کہ جس کو کافر کہا جارہا ہے وہ شخص احمدی تھا تو ان کو یہ خیال آیا کہ ایک شخص اللہ اور رسول کی بات کر رہا ہے اور اس کو یہ کافر کہہ رہا ہے تو اس بات سے پھر انہوں نے آخر اسی سے رابطہ کر کے جماعت کے بارے میں معلومات لیں اور پھر آہستہ آہستہ علم حاصل کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔اس وقت تیسرا جنازہ ایک سیرین احمدی دوست کا ہی ہے۔ان کا نام مکرم احمد الرحال صاحب تھا۔آجکل جو وہاں جنگی حالات ہیں اس میں ان کو بم کے ٹکڑے لگے جس کی وجہ سے شہید ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اور سیریا کے حالات کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ وہاں بھی بہتری پیدا فرمائے۔تمام مسلمان ممالک کو ہی عقل اور سمجھ دے اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے کی بجائے حقیقی مسلمان بنیں اور آپس میں رحم ان میں پیدا ہو اور زمانے کے امام کو ماننے کی اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 23 اکتوبر 2015 ء تا 29 اکتوبر 2015، جلد 22 شماره 43 صفحه 05 تا08)