خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 580
خطبات مسرور جلد 13 توڑنے کی کوشش کرنے والے بنو۔580 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 199-198 ) آپ نے فرمایا کہ انسان کے واسطے ترقی کرنے کے دو ہی طریق ہیں۔اول تو انسان تشریعی احکام یعنی نماز، روزہ، زکوۃ اور حج وغیرہ تکالیف شرعیہ کی پابندی سے جو کہ خدا کے حکم کے موجب خود بجالا کر کرتا ہے مگر یہ امور چونکہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں اس لئے کبھی ان میں سستی اور تساہل بھی کر بیٹھتا ہے اور کبھی ان میں کوئی آسانی اور آرام کی صورت ہی پیدا کر لیتا ہے۔لہذا دوسرا وہ طریق ہے جو براہ راست خدا کی طرف سے انسان پر وارد ہوتا ہے اور یہی انسان کی اصلی ترقی کا باعث ہوتا ہے کیونکہ تکالیف شرعیہ میں انسان کوئی نہ کوئی راہ بچاؤ یا آرام و آسائش کی نکال ہی لیتا ہے۔دیکھو کسی کے ہاتھ میں تازیانہ دے کر اگر اسے کہا جاوے کہ اپنے بدن پر مارو تو قاعدہ کی بات ہے کہ آخر اپنے بدن کی محبت دل میں آہی جاتی ہے۔کون ہے جو اپنے آپ کو دکھ میں ڈالنا چاہتا ہے؟ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے انسانی تکمیل کے واسطے ایک دوسری راہ رکھ دی اور فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔(البقرة: 157-156 )۔ہم آزماتے رہیں گے تم کو بھی کسی قدر خوف بھیج کر کبھی فاقہ سے، کبھی مال، جان اور پھلوں پر نقصان وارد کرنے سے۔مگر ان مصائب شدائد اور فقر وفاقہ پر صبر کر کے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے والے کو بشارت دے دو کہ ان کے واسطے بڑے بڑے اجر ، خدا کی رحمتیں اور اس کے خاص انعامات مقرر ہیں۔دیکھو ایک کسان کسی محنت اور جانفشانی سے قلبہ رانی کر کے زمین کو درست کرتا، پھر تخم ریزی کرتا ، آبپاشی کی مشکلات جھیلتا ہے۔آخر جب طرح طرح کی مشکلات، محنتوں اور حفاظتوں کے بعد کھیتی تیار ہوتی ہے تو بعض اوقات خدا کی باریک در بار یک حکمتوں سے ژالہ باری ہو جاتی یا کبھی خشک سالی ہی کی وجہ سے کھیتی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔غرض یہ ایک مثال ہے ان مشکلات کی جن کا نام تکالیف قضا و قدر ہے۔ایسی حالت میں مسلمانوں کو جو پاک تعلیم دی گئی ہے وہ کیسی رضا بالقضا کا سچا نمونہ اور سبق ہے اور یہ بھی صرف مسلمانوں ہی کا حصہ ہے۔( ملفوظات جلد 10 صفحہ 414-413) پس اس بات کو ہمیں ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ نہ ہمارے اپنے دل میں کبھی یہ خیال آئے کہ خدا تعالیٰ کیوں بڑے بڑے نقصانوں اور ابتلاؤں سے ہمیں گزارتا ہے اور نہ ہی کسی مخالف کے ہنسی ٹھٹھا کرنے یا یہ کہنے پر ہم پریشان ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تو پھر تمہارا نقصان کیوں ہوتا ہے۔