خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد 13 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء تکالیف کو دوسرے بیشک تکالیف سمجھتے ہیں مگر مومن اس کو تکالیف نہیں خیال کرتا“۔فرمایا کہ یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنی سچی توبہ پر قائم رہے اور یہ سمجھے کہ تو بہ سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔اور اگر تو بہ کے ثمرات چاہتے ہوتو عمل کے ساتھ تو بہ کی تکمیل کرو۔دیکھو جب مالی بوٹا لگا تا ہے پھر اس کو پانی دیتا ہے اور اس سے اس کی تکمیل کرتا ہے اسی طرح ایمان ایک بوٹا ہے اور اس کی آبپاشی عمل سے ہوتی ہے اس لئے ایمان کی تکمیل کے لئے عمل کی از حد ضرورت ہے۔اگر ایمان کے ساتھ عمل نہیں ہوں گے تو بوٹے خشک ہو جائیں گے اور وہ خائب و خاسر رہ جائیں گئے۔( بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 1 صفحہ 604-603 و البدر 20 مارچ 1903ء نمبر 9 جلد 2 صفحہ 67) ابتلاؤں کی اہمیت اور برکات پھر آپ فرماتے ہیں: " تم مومن ہونے کی حالت میں ابتلا کو برا نہ جانو اور برا وہی جانے گا جو مومن کامل نہیں ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَ نَفْسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: 157-156) خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کبھی تم کو مال سے یا جان سے یا اولا د سے یا کھیتوں وغیرہ کے نقصان سے آزمایا کریں گے مگر جو ایسے وقتوں میں صبر کرتے اور شاکر رہتے ہیں تو ان لوگوں کو بشارت دو کہ ان کے واسطے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کشادہ اور ان پر خدا کی برکتیں ہوں گی جو ایسے وقتوں میں کہتے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ یعنی ہم اور ہمارے ے متعلق گل اشیاء یہ سب خدا ہی کی طرف سے ہیں اور پھر آخر کار ان کا لوٹنا خدا ہی کی طرف ہے۔کسی قسم کے نقصان کا غم ان کے دل کو نہیں کھاتا اور وہ لوگ مقام رضا میں بود و باش رکھتے ہیں۔ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں“۔پھر آپ فرماتے ہیں: " بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیا ءلوگوں پر طعن کرتے ہیں ( یعنی جو اولیاء اللہ ہوتے ہیں ان پر لوگ طعن کرتے ہیں ، ان کو طعنوں کا نشانہ بناتے ہیں) کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔فرمایا کہ ”اصل میں وہ نادان اس قانون الہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں۔جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہوگا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دو نمونے پیش کئے ہیں انہی کو مان لینا ایمان ہے۔تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو