خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد 13 581 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء ان اقتباسات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے جو باتیں بیان فرمائی ہیں ان کے بعض اہم نکات میں پھر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ یا درکھو کہ جب تکالیف اور مشکلات رسولوں پر یا اللہ تعالیٰ کے پیاروں پر آتی ہیں اور اس حوالے سے انبیاء کی جماعتوں پر بھی آتی ہیں جوان کی صحیح تعلیم پر چلنے والے ہوں تو بہر حال جب اللہ تعالیٰ کے پیارے ان تکالیف سے گزرتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں کسی مشکل، مصیبت میں ڈالنے کے لئے یا سزا دینے کے لئے تکالیف میں سے نہیں گزارتا بلکہ ان کو انعامات کی خوشخبری دیتا ہے۔اور جب اس قسم کی تکالیف خدا تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی جماعت کے مخالفین پر آتی ہیں اور بدوں پر آتی ہیں تو وہ ان کی تباہی بن کر آتی ہیں اور انہیں تباہ کر دیتی ہیں۔پھر آپ نے فرمایا کہ مشکلات پر صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے بے حد و حساب ثواب کے وارث بنتے ہیں۔پس ایک مومن کو صبر کے معنی سمجھنے کی ضرورت ہے۔صبر کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انسان کسی نقصان پر افسوس نہ کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نقصان، کسی تکلیف کو اپنے اوپر اتنا وارد نہ کر لے کہ ہوش و حواس کھو بیٹھے اور مایوس ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی عملی طاقتوں کو استعمال میں نہ لاوے۔پس ایک حد تک کسی نقصان پر افسوس بھی ٹھیک ہے، کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی ایک نئے عزم کے ساتھ اگلی منزلوں پر قدم مارنے کے لئے پہلے سے بڑھ کر کوشش کا عزم اور عمل ضروری ہے۔پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ صبر کرنے والے کو ہی دعا کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ دعا فوری قبول کر لیتا ہے تو کبھی اللہ تعالیٰ کسی مصلحت کی وجہ سے دعا قبول نہیں کرتا۔لیکن مومن کا کام ہے کہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور اللہ تعالیٰ کے کسی فعل پر شکوہ نہ کرے۔یہی حقیقی صبر ہے اور جب ایسی صبر کی حالت ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب نوازتا ہے، انعامات دیتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے مشکلات کے وقت میں بھی لذت اٹھا رہے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو نظر آ رہا ہوتا ہے کہ ان مشکلات کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات اور فضل چلے آرہے ہیں۔پس آپ نے فرمایا کہ مومن کو مصائب اور مشکلات ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں پہنچتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہوتا ہے تا کہ دنیا کو بھی پتا چل جائے کہ خدا تعالیٰ کے بندے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیارا وجود اللہ تعالیٰ کو جو ہے یا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی لیکن آپ کو بھی بیشمار تکالیف پہنچیں بلکہ ذاتی تکالیف بھی پہنچیں اور جماعتی تکالیف بھی پہنچیں اور یہ تکالیف جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی ہیں کسی اور کو نہیں پہنچیں۔لیکن