خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد 13 578 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء ب وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتُهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فرمایا کہ ”یہی تکالیف جب رسولوں پر آتی ہیں تو ان کو انعام کی خوشخبری دیتی ہیں اور جب یہی تکالیف بدوں پر آتی ہیں تو ان کو تباہ کر دیتی ہیں۔غرض مصیبت کے وقت قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ پڑھنا چاہئے کہ تکالیف کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا طلب کرے“۔فرمایا کہ مومن کی زندگی کے دو حصے ہیں۔”جو نیک کام مومن کرتا ہے اس کے لئے اجر مقرر ہوتا ہے۔مگر صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا ثواب بے حد و بے شمار ہے۔( نیکی کا اجر ہے لیکن صبر کا ثواب بہت زیادہ ہے۔” خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہی لوگ صابر ہیں یہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو سمجھ لیا۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کی زندگی کے دو حصے کرتا ہے جو صبر کے معنی سمجھ لیتے ہیں۔اول جب وہ دعا کرتا ہے ( یعنی صبر کرنے والا ) تو خدا تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے جیسا کہ فرمایا ادعُونَ أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 61) أَجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَان (البقرة: 187) دوم بعض دفعہ اللہ تعالیٰ مومن کی دعا کو بعض مصلحت کی وجہ سے قبول نہیں کرتا تو اس وقت مومن خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔تنزل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن سے دوست کا واسطہ رکھتا ہے۔جیسا کہ دو دوست ہوں ان میں سے ایک دوسرے کی بات تو کبھی مانتا ہے اور کبھی اس سے منواتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس تعلق کی مثال ہے جو وہ مومن سے رکھتا ہے۔کبھی وہ مومن کی دعا کو قبول کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے اُدعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: 61) اور کبھی وہ مومن سے اپنی باتیں منوانی چاہتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ پس اس بات کو سمجھنا ایمانداری ہے کہ ایک طرف زور نہ دئے“۔فرمایا ” مومن کو مصیبت کے وقت میں غمگین نہیں ہونا چاہئے۔وہ نبی سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ مصیبت کے وقت ایک محبت کا سر چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔مومن کو کوئی مصیبت نہیں ہوتی جس سے اس کو ہزار ہا قسم لذت نہیں پہنچتی۔پھر آپ نے فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ کے پیاروں کو گناہ سے مصائب نہیں پہنچتے“۔(یعنی گناہ کی وجہ سے مصیبتیں نہیں آتیں) آپ فرماتے ہیں کہ ” مومن کے جو ہر بھی مصائب سے کھلتے ہیں۔چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھوں اور نصرت کے زمانے پر آپ کے اخلاق کو کس طرح ظاہر کیا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف نہ پہنچتے تو اب ہم ان کے اخلاق کے متعلق کیا بیان کرتے۔مومن کی