خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 577

خطبات مسرور جلد 13 577 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء خطبہ جعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ اسیح الخامس ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العزیز راحم الخامس فرمودہ مورخہ 02 اکتوبر 2015ء بمطابق 02 اخاء 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح مورڈن تشہد وتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَيِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: 156-157) ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے۔ان لوگوں کو جن پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ان آیات میں مومنوں کی ان خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ مشکلات اور مصائب یا کسی بھی قسم کے نقصان کے ہونے پر دکھاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک حقیقی مومن کا اسی وقت پتا چلتا ہے جب وہ ان خصوصیات کا حامل بنے۔مومنین کو کبھی تو ذاتی طور پر نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی جماعتی طور پر نقصان ہوتا ہے لیکن حقیقی مومن ہر طرح کے نقصان سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے ہوئے کامیاب ہوکر نکلتا ہے اور اسے نکلنا چاہئے۔اس مضمون پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مختلف تحریرات اور ارشادات میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔مختلف زاویوں سے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔اس وقت میں اس تعلق سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک دو حوالے پیش کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان آیات کی وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : مصیبتوں کو برا نہیں مانا چاہئے کیونکہ مصیبتوں کو برا سمجھنے والا مومن نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا