خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 550

خطبات مسرور جلد 13 550 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء افریقہ میں ایک جگہ ایک بکسٹال لگایا گیا۔قرآن کریم کی نمائش تھی۔پورتونو و و بین کا شہر ہے وہاں سے دو مسلمان نوجوان آئے۔انہیں جب احمدیت کا تعارف کروایا گیا اور بتایا گیا کہ امام مہدی علیہ السلام آچکے ہیں اور وہی اس زمانے کے امام ہیں تو وہ فوراً بولے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو خاتم النبین ہیں۔کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی آئے گا۔اس پر انہیں فرینچ زبان میں کتاب صداقت مسیح موعود علیہ السلام پڑھنے کے لئے دی گئی اور آخری زمانے میں مسلمانوں کی جو حالت زار ہے اس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پیش کی گئیں۔مسیح کی آمد ثانی کا ذکر کیا گیا۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے بارے میں بتایا گیا کہ اسلام کیا ہے۔یعنی وہ حقیقی اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے۔جس میں محبت ہے، امن ہے اور آشتی کی تعلیم ہے۔آج تو مسلمانوں نے اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔اس پر وہ دونوں نوجوان کہنے لگے کہ ہم عقیدے کے اعتبار سے مسلمان تو ضرور ہیں لیکن مسلمانوں کی بربریت اور دہشت گردی سے اتنے تنگ آگئے تھے کہ ہم تو عیسائی ہونے لگے تھے۔لیکن اب جماعت احمدیہ کی باتیں سن کر تسلی ہوئی ہے کہ اسلام ایسا نہیں جیسا یہ ملاں لوگ پیش کرتے ہیں۔مبلغ لکھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارا شکر یہ ادا کیا کہ آپ نے ہمیں عیسائی ہونے سے بچالیا، اسلام چھوڑنے سے بچالیا۔غیر مسلموں کے دلوں میں بھی حقیقی اسلام کو دیکھ کر اس پیغام کو پھیلانے کا شوق پیدا ہوتا ہے وہ بھی ہمارا ساتھ دینے لگ جاتے ہیں۔جاپان کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک بدھسٹ جاپانی ہمارے سٹال پر آئے اور کہنے لگے کہ اسلام کے بارے میں ان کی معلومات بہت کم ہیں۔جب انہیں اسلام کا تعارف کروایا گیا اور دیگر مذاہب کے بارے میں اسلامی تعلیم کے نمونے قرآن کریم کی آیات سے دکھائے تو انہوں نے نہ صرف ہمارا شکر یہ ادا کیا بلکہ کہنے لگے کہ یہ خوبصورت تعلیم اس لائق ہے کہ دنیا کو بتائی جائے اور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔موصوف کہنے لگے کہ اگر مجھے اجازت دیں تو میں بھی ایک دن آپ لوگوں کے ساتھ مل کر امن کا پیغام تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے مبلغ لکھتے ہیں چنانچہ حسب وعدہ ایک دن وہ ہمارے سٹال پر آئے اور صبح دس بجے سے شام چار بجے تک باوجود اس کے کہ وہ بدھسٹ تھے بلند آواز سے یہ اعلان کرتے رہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور لوگوں میں فولڈ تقسیم کرتے رہے۔اسی طرح انڈیا میں صوبہ کرناٹک میں ایک جگہ گرک میں ایک بکسٹال لگایا گیا۔اس بکسٹال پر ایک غیر مسلم دوست آئے اور بعد میں کہنے لگے کہ ہم نے اس سے قبل بھی بہت سے بک سٹال دیکھے ہیں لیکن امن اور شانتی کا پیغام دینے والے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے والے ایسے