خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 549
خطبات مسرور جلد 13 549 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ہے جو ہمارے دل پر اثر کر رہا ہے۔اسلام کی تعلیم کو خوبصورتی سے پیش کرنے کا یہ انداز ہے جو ہمارے دلوں کو گھائل کر رہا ہے اور ہمیں اس سے سکون مل رہا ہے۔تم تو ابھی تک ہمیں گمراہ کرتے چلے آئے ہو۔اس لئے فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔چنانچہ وہ مولوی بڑا شرمندہ ہوکر وہاں سے گیا اور وہاں جو مجلس لگی تھی اس کے نتیجہ میں پندرہ افراد جماعت میں شامل ہو گئے۔پھر گنی کنا کری کا ہی ایک واقعہ ہے۔دارالحکومت سے کوئی دوسوکلومیٹر دور ایک قصبے میں تبلیغ کے لئے جب گئے تو وہاں ایک شخص نے کہا کہ آپ سے پہلے بھی تبلیغی جماعت کے لوگ یہاں آئے تھے لیکن ان کے رویے کیا تھے۔وہ لوگ آئے تو تبلیغ کرنے تھے۔انہوں نے بھی اللہ اور رسول کی باتیں کی تھیں لیکن پھر انہوں نے اس گاؤں میں کچھ ایسی بیہودگیاں کی ہیں کہ ہم بیان نہیں کر سکتے۔تم لوگ بھی وہی کچھ کرنے آئے ہو۔اس لئے بہتر ہے کہ یہاں سے چلے جاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہیں مار مار کر نکال دیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ کہنے دو۔وہاں کے ایک بزرگ نے بھی لوگوں کو سمجھایا کہ یہ لوگ مجھے ان لوگوں سے کچھ مختلف لگتے ہیں، ذرا ان کی باتیں تو سن لو۔چنانچہ کہتے ہیں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا مقصد بیان کیا اور آپ کی آمد کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانے کی یہ علامات ہوں گی اور اس میں مسیح موعود ظاہر ہوں گے۔بہر حال لوگوں پر اس بات کا غیر معمولی اثر ہوا۔لوکل مشنری کو وہاں چھوڑ آئے جنہوں نے تبلیغ جاری رکھی اور کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ہفتے میں نہ صرف وہ گاؤں اپنے امام اور مسجد سمیت احمدیت میں داخل ہوا بلکہ قریب کے چار پانچ گاؤں بھی بیعت کر کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں داخل ہو چکے ہیں اور مزید رابطے جاری ہیں۔اور کہتے ہیں کہ مسلسل ہمیں پیغام مل رہے ہیں کہ لوگ بے چینی سے حقیقی اسلام میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔مسلمان علماء اور لیڈروں کا منفی کردار بد قسمتی سے مسلمان علماء اور لیڈروں نے بھی جیسا کہ میں نے مثال بھی دی ہے اسلام سے دور کرنے میں بہت کردار ادا کیا ہے۔اور اسی وجہ سے ہر جگہ جو غیر مسلم ہیں ان کو بھی جرات پیدا ہوئی کہ اسلام کو بدنام کریں۔جماعت احمد یہ کس طرح کوشش کر کے بگڑے ہوئے مسلمانوں یا ان مسلمانوں کو جن کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے واپس دین کی طرف لاتی ہے اس کی ایک دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔