خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 551
خطبات مسرور جلد 13 551 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء لوگ میں نے آج تک نہیں دیکھے۔وہ بہت متاثر ہوئے اور ہمارے اس بک سٹال سے بہت ساری کتابیں خرید کر لے گئے۔لکسمبرگ کے ایک شہر میں نمائش کے موقع پر جماعت کی طرف سے بکسٹال کا انعقاد کیا گیا۔شہر کے میئر بھی سٹینڈ پر آئے اور مختلف کتابیں دیکھیں۔اس کے بعد لکسمبرگ جماعت کے صدر نے انہیں جماعت کا مختصر تعارف کروایا۔ان کو ایک کتاب بھی تحفہ دی۔اس پر میئر نے کہا کہ آپ کی کمیونٹی بہت اچھا کام کر رہی ہے۔آپ کو چاہئے کہ اسلام کی اس خوبصورت تصویر کو جلد از جلد دنیا میں پھیلائیں۔ایک دل شکستہ نومسلم کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔امیر صاحب ہالینڈ نے لکھا ہے بلال صاحب ایک ڈچ مسلمان ہیں۔مسلمانوں کی حالت زار سے بہت دل شکستہ ہو گئے تھے۔ایک مرتبہ وہ اپنے بچے کے لئے تحفہ خریدنے کی نیت سے بازار گئے تو راستے میں ایک بک سٹال پر رک گئے۔یہ جماعت احمدیہ کا بک سٹال تھا۔انہوں نے جماعت کا شائع شدہ قرآن کریم پہلی مرتبہ دیکھا۔سٹال پر موجود احمدی خادم سے بات چیت بھی کی اور جماعت کا کچھ لٹریچر اپنے ساتھ گھر لے گئے۔کچھ عرصے بعد جب ان سے دوبارہ رابطہ ہوا تو کہنے لگے کہ میں جماعت احمدیہ کی تعلیمات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔میں نے جب خوشی خوشی اپنے سنی مسلمان دوستوں سے جماعت کا ذکر کیا اور انہیں بتایا کہ میرے پاس جماعت احمدیہ کا لٹریچر بھی ہے تو اس پر بہت غصے ہوئے اور لڑنے پر اتر آئے۔کہتے ہیں کہ میری بیوی جو کہ مراکش کی ہیں وہ بھی بہت غصہ میں آگئیں۔گھر میں احمدیت کا ذکر کرنا بھی ناممکن ہو گیا۔بہر حال کہتے ہیں میں نے فیصلہ کیا کہ میں چھپ کر احمدیت کے بارے میں تحقیق کروں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری دوبارہ اس نوجوان کے ساتھ ملاقات کروا دی جو مجھے بک سٹال پر ملا تھا۔اس نے مجھے جلسہ سالانہ ہالینڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔میں دو دن جلسے میں شامل رہا۔اس دوران مجھے یوٹیوب پر بھی ڈچ زبان میں کچھ ویڈیو دیکھنے کو مل گئیں جس کی وجہ سے مجھے بہت فائدہ ہوا بلکہ میری بیوی نے بھی ان ویڈیوز کو دیکھ کر احمدیت کے بارے میں اپنی رائے بدل لی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احمدیت کی صداقت ظاہر کی اور مجھے بیعت کرنے کی توفیق ملی۔اب میں جماعتی پروگرام میں شامل ہوتا ہوں اور روحانی طور پر ترقی محسوس کرتا ہوں۔جو پہلے بے چینی تھی وہ بھی ختم ہورہی ہے۔پھر قرآن کریم کی تعلیم کا غیروں پر کس طرح اثر ہوتا ہے۔کینیڈا سے ہمارے ایک داعی الی اللہ دوست لکھتے ہیں کہ ہم نے ایک تبلیغی بک سٹال لگایا۔ایک انگریز کینیڈین میاں بیوی ہمارے سٹال پر آئے اور