خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 548
خطبات مسرور جلد 13 548 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء میں سے اسلام اور احمد بیت کو قبول کرتا ہوں۔پھر اس کے بعد اس گاؤں سے چالیس افراد اسلام احمدیت میں داخل ہوئے اور یہاں مشرکین کے گاؤں میں، اس جگہ میں ایک نئی جماعت قائم ہو گئی۔پھر ان کی کچھ روایات ہیں۔جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کے لئے بڑا اہتمام کیا جاتا ہے۔جب تک پورا اہتمام نہ ہو جائے، لاکھوں فرانک خرچ نہ کئے جائیں اس وقت تک اس کو دفنایا نہیں جاتا۔بڑے اہتمام سے دفنایا جاتا ہے۔بڑا فنگشن ہوتا ہے اور چاہے مہینہ رکھنا پڑے مارچری میں رکھا جاتا ہے۔لیکن جب یہ احمدی ہوئے تو اس بزرگ نے اعلان کیا کہ میں جب مرجاؤں تو مجھے اس طرح نہ دفتانا بلکہ جو مسلمانوں کا طریقہ ہے اس کے مطابق میری تدفین ہو۔یہ رسم ورواج اب آئندہ سے ختم ہوں تو فوری تبدیلی ان میں یہ پیدا ہوئی کہ رسم ورواج کو بھی انہوں نے فوری طور پر چھوڑ دیا۔پھر ایک دن ہمارے معلم کو کہنے لگے کہ احمدی ہونے کے بعد میرے جسم میں ایک نئی روح آ گئی ہے۔میں جہاں بھی ہوں چاہے اپنے فارم پہ کام کر رہا ہوں، میری روح میرے ضمیر کو جگاتی ہے اور کہتی ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔تو یہ پابندی ان لوگوں میں نماز کے لئے بھی پیدا ہو چکی ہے اور کہتے ہیں کہ اس طرح میں نماز کے لئے کھڑا ہو جاتا ہوں اور میری روح کو سکون اور جسم کو راحت ملتی ہے۔کہتے ہیں اب میں اپنے اندر بڑی تبدیلی محسوس کرنے لگ گیا ہوں۔پس ہم میں سے بھی جو نماز میں سست ہیں ان کو یا درکھنا چاہتے کہ نئے آنے والے عبادتوں کی طرف بھی رجحان رکھنے والے ہیں اور بڑی توجہ سے نمازیں پڑھتے ہیں۔آج اسلام کی حقیقی تعلیم جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی دنیا کو پہنچ سکتی ہے۔اس کا ذکر اکثر ر پورٹس میں ہوتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو دنیا میں پہنچارہا ہے اور کس طرح لوگوں پر اثر ہوتا ہے۔ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔یہ گنی کنا کری ملک کا ہے وہاں کا ایک شہر فارانا (Farana) ہے جو وہاں کے کیپیٹل سے تقریباً پانچ سوکلومیٹر دور ہے۔وہاں ہمارے لوگ جب تبلیغ کے لئے پہنچے تو وہاں پر موجود ہمارے ایک احمدی دوست ابو بکر صاحب نے تبلیغی نشستوں کا اہتمام کیا۔یہ مربی کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام ان لوگوں کو پہنچایا۔ابھی تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا کہ وہاں ایک مولوی شر پھیلانے کے لئے پہنچ گیا۔کچھ دیر تو خاموشی سے باتیں سنتا رہا۔اس کے بعد بڑے غصے میں کہا کہ تمہیں یہاں تبلیغ کی اجازت نہیں ہے اور میں تمہیں پولیس کے ذریعہ سے ابھی یہاں بند ( گرفتار ) کرواتا ہوں۔وہاں کے نوجوان کھڑے ہو گئے اور اس مولوی کو بڑے غصے سے کہا کہ تم اتنے عرصے سے یہاں ہو تم نے تو کبھی یہ باتیں نہیں بتائیں جو باتیں آج ہمیں سننے کومل رہی ہیں اور یہی