خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد 13 547 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء پھر میڈیا کا کردار ایک طرف تو اتنا زیادہ ہے کہ بڑے تو بڑے بچوں کو بھی اسلام سے خوفزدہ کیا جاتا ہے۔بعض جگہ سکولوں میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ بعض دفعہ غیر مسلم بچے مسلمانوں بچوں سے ایسا سلوک کر رہے ہوتے ہیں جس سے لگ رہا ہوتا ہے کہ نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔دوسری طرف جماعت احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان کے اس اثر کو زائل کرتا ہے اس کا ایک چھوٹا سا واقعہ پیش کرتا ہوں۔کہا بیر میں ہماری مسجد ہے۔وہاں جماعت ہے۔وہاں کے مشنری لکھتے ہیں کہ چند دن قبل ہماری مسجد کے سامنے ایک یہودی ٹیچر اپنے سکول کے بچوں کو لے کر جماعت کا تعارف کرا رہے تھے۔وہ ٹیچر غالباً عربی بھی جانتے تھے۔ہماری مسجد کے دروازے پر لکھا ہوا ہے کہ مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنَّا وہ ٹیچر ان الفاظ کا لفظی ترجمہ کر کے بچوں کو سمجھا رہے تھے کہ اس جملے کا مطلب ہے کہ جو اس میں داخل ہو گا وہ امن میں رہے گا۔کہنے لگا یہ الفاظ تو سارے مسلمان ادا کرتے ہیں، پڑھتے ہیں ، قرآن شریف میں ہے۔بچوں کو کہتا ہے کہ مگر آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ اس جملے کا عملی نمونہ صرف احمدیوں کی مسجد میں ہی دیکھنے کو ملے گا۔پھر اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کی توجہ جماعت کی طرف پھیرتا ہے۔برکینا فاسو افریقہ کا ایک ملک ہے فرنچ علاقہ ہے۔وہاں ایک جگہ کا لمبا گو (Kalambago) میں مسجد تعمیر ہوئی۔مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایک دوست نے کہا کہ میرا جماعت احمدیہ سے دس سال قبل تعارف ہوا تھا لیکن میں جماعت احمد یہ کو مسلمانوں کی ایک عام سی تنظیم سمجھتا تھا۔اس لئے نہ میں نے احمدیت قبول کی اور نہ ہی اپنے اس علاقے میں اس کا ذکر کیا مگر آج جماعت احمدیہ کی یہاں اپنے گاؤں میں مسجد دیکھ کر مجھے علم ہوا ہے کہ جس جماعت کو میں نے مسلمانوں کی عام تنظیم سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا وہی جماعت اسلام کی حقیقی خدمت کر رہی ہے اور آج میرے گاؤں میں بھی اس جماعت نے مسجد بنادی ہے۔آج مجھ پر واضح ہو گیا کہ یہ جماعت یقینا سچی ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی تائید ہے۔پھر موٹیوں (Mougnoun) ایک جگہ بینن میں ہے جہاں مشرکین آباد ہیں۔سب مشرکین ہیں۔ہمارے مشنری وہاں تبلیغ کے لئے گئے۔جماعت کا تعارف کرانے کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو کرے۔اس پر ایک بزرگ کہنے لگے کہ میں تو اسلام کے بارے میں بُرے خیالات رکھتا تھا۔آپ کو دیکھ کر میں سمجھا تھا کہ بوکو حرام ہم میں داخل ہو گئے ہیں۔( بوکوحرام ایک شدت پسند، دہشت گرد تنظیم ہے جن کا آجکل نائیجیریا میں خاص طور پر بڑا زور ہے۔لیکن جب میں نے آپ کی تقریر سنی تو میرے اسلام کے بارے میں تمام خدشات دور ہو گئے اور میں پہلا شخص ہوں جو ان مشرکین