خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 539

خطبات مسرور جلد 13 539 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء پھوپھی بھی تھیں۔17 اکتوبر 1928ء کو قادیان میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔29 دسمبر 1944ء کو / جب میاں عباس احمد خان صاحب کے ساتھ ان کا نکاح ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے جمعہ کے دن جمعہ کا خطبہ شروع کرنے سے پہلے چند نکاحوں کا اعلان کیا۔آپ نے فرمایا کہ چند نکاحوں کا اعلان کرنا چاہتا ہوں اور میں یہ بات کئی دفعہ ظاہر کر چکا ہوں کہ کچھ عرصے تک میں ایسے لوگوں کے نکاح پڑھا سکوں گا جو یا تو میرے عزیز ہوں یا ان سے میرے تعلقات عزیزوں کی طرح ہوں مثلاً دین کے لئے وہ زندگی وقف کر چکے ہوں۔اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نکاح اس صورت میں پڑھا سکوں گا جبکہ ایسے موقع پر وہ درخواستیں پیش کی جائیں گی جب ایسے عزیزوں کا نکاح ہو۔بہر حال آپ نے فرمایا کہ آج میں عزیزم عباس احمد خان کے نکاح کا اعلان کرنا چاہتا ہوں جو میری چھوٹی بہن اور میاں عبداللہ خان صاحب کے لڑکے ہیں اور لڑ کی عزیزم میاں شریف احمد صاحب کی ہے۔گو یالڑ کا میرا بھانجا ہے اور لڑ کی میری بیجی ہے۔پھر آپ نے مختلف نصائح فرما ئیں اور وقف زندگی کا ذکر کیا اور اس میں حضرت خلیفۃ اسیح الثالث کا نام لیا کہ اس وقت خاندان کے لڑکوں میں سے جو سب سے زیادہ اس وقف کے لئے پیش کر چکے ہیں ان کا نام لیا کہ آپ ہیں اور اوروں کو بھی توجہ دلائی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے ساٹھ ستر سال پہلے یہ الہام شائع فرمایا تھا کہ تری نَسْلاً بَعِيدًا۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس نشان کو ایسے رنگ میں پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ روز بروز نشان کی اہمیت اور عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ جس وقت وہ شائع کئے جاتے ہیں تو بڑے ہوتے ہیں اور ان کی عظمت زیادہ ہوتی ہے مگر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے اس نشان کی عظمت میں آہستہ آہستہ کمی ہوتی چلی جاتی ہے۔لیکن بعض نشان اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ابتدا میں چھوٹے ہوتے ہیں مگر زمانے کے ساتھ ساتھ وہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔جوں جوں زمانہ گزرتا ہے انکی عظمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا کہ تَرى نَسْلاً بَعِيدًا اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صرف دو بیٹے تھے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کے ہاں کچھ اور بیٹے بیٹیاں پیدا ہو ئیں اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو وسیع کیا اور اب ان بیٹوں اور بیٹیوں کی نسلیں الہام الہی کے ماتحت شادیاں کر رہی ہیں اور تری نسلاً بَعِيدًا کے نئے نئے ثبوت مہیا کر رہی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ دنیا میں نسلیں تو پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ایک معترض کہہ سکتا ہے کہ یہ کونسا نشان ہے