خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 540
خطبات مسرور جلد 13 540 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء نسلیں تو دنیا میں اکثر آدمیوں کی چلتی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے آدمیوں کی نسلیں ہیں جو ان کی طرف منسوب بھی ہوتی ہوں اور منسوب ہونے میں فخر محسوس کرتی ہوں۔اکثر آدمیوں کی نسلیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے پردادا کا کیا نام تھا تو ان کو پتا نہیں ہوتا مگر تری نَسْلاً بَعِيدًا کا الہام بتا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل آپ کی طرف منسوب ہوتی چلی جائے گی اور لوگ انگلیاں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل آپ کی پیشگوئیوں کے ماتحت آپ کی صداقت کا نشان ہے۔پس تَرى نَسْلاً بَعِيدًا میں صرف یہی پیشگوئی نہیں کہ آپ کی نسل کثرت سے ہو گی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظمت شان کا بھی اس جگہ اس رنگ میں اس پیشگوئی میں ذکر ہے کہ آپ کا مرتبہ اتنا بلند اور آپ کی شان اتنی ارفع ہے۔آپ کی نسل ایک منٹ کے لئے بھی آپ کی طرف منسوب نہ ہونا برداشت نہیں کرے گی اور آپ کی طرف منسوب ہونے میں ہی ان کی شان اور ان کی عظمت بڑھے گی۔پس اس پیشگوئی میں خالی اس بات کا ذکر نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد کثرت سے ہوگی بلکہ یہ بھی ذکر ہے کہ روز بروز بڑھے گی اور وہ خواہ کتنے ہی اعلیٰ مقام اور اعلیٰ مرتبے تک جا پہنچے اور خواہ ان کو بادشاہت بھی حاصل ہو جائے پھر بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب کرنے میں ہی فخر محسوس کرے گی۔پس تری نسلاً بَعِيدًا کے یہی معنی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری نسل تجھے کبھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں کرے گی اور تیری نسل کبھی اپنے دادا کو بھلانے کی کوشش نہیں کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ غموں کا ایک دن اور چار شا دی۔جس کے یہ معنی ہیں کہ بیشک آپ کی نسل میں سے بعض لوگ مریں گے بھی جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے مگر آپ کی نسل کم نہیں ہوگی بلکہ بڑھتی چلی جائے گی۔اگر ایک مرے گا تو چار پیدا ہوں گے اور جہاں ایک مرے گا اور چار پیدا ہوں گے لا زمی بات ہے کہ وہ نسل بڑھتی چلی جائے گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولا دحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظمت اور آپ کے درجے کی بلندی کا ہمیشہ نشان رہے گی اور ہمیشہ اپنے آپ کو آپ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرے گی اور جب وہ آپ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرے گی تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی ہیں کہ وہ اولا د اپنے دادا کی بڑائی اور عظمت کا اقرار کرتی ہے اور دنیا اس اقرار کی عظمت کو تسلیم کرتی ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 605 تا 608)