خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 512 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 512

خطبات مسرور جلد 13 512 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء لگتا ہے کہ جماعت اگلے چند سال میں دنیا پر غالب آ جائے گی۔انشاء اللہ۔پھر کہتے ہیں امن عالم کے لئے نہایت مدبرانہ کوششیں ہو رہی ہیں۔نصائح اور تجاویز دنیا کے سامنے رکھی جاتی ہیں۔اگر لوگ ان نصائح پر عمل کریں تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔پھر انہوں نے کہا کہ اگر جلسہ سالانہ کو میں خلاصہ بیان کروں تو سب سے بڑی بات یہی ہے کہ جماعت احمد یہ انسانیت کے لئے امن محبت اور بھائی چارے کا ایک عظیم نمونہ ہے۔فرینچ گیانا سے ایک مہمان جیک برتھول (Jacques Bertholle) جلسہ میں شامل ہوئے تھے۔موصوف فرنچ گیانا کی کورٹ کے حج ہیں اور ملک کے بشپ کی نمائندگی میں آئے تھے۔یہ کہتے ہیں کہ جب میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے لئے فرینچ گیانا سے روانہ ہوا تو میری ٹانگ میں درد تھا لیکن جلسہ میں شامل ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے معجزانہ رنگ میں شفادی اور پورا جلسه در دکا نام ونشان نہیں رہا۔تو اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ جلسے کی جو برکات احمد یوں کو پہنچتی ہیں اس سے غیر بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جہاں تک جلسے کے انتظامات کا تعلق ہے تو میں ایک لمبا عرصہ work inspector رہا ہوں اور ہر کام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتا ہوں مگر جس طریق پر جماعت احمدیہ کے والنٹیئر ز کام کر رہے تھے وہ قابل تعریف ہے۔ہر ایک اپنا کام احسن رنگ میں کر رہا تھا۔خاص طور پر اتنے بڑے مجمع کی سیکیورٹی کا انتظام کرنا کوئی آسان کام نہیں۔اسی طرح اتنی کثیر تعداد میں لوگوں کے لئے کھانا تیار کرنا اور پھر انہیں وقت پر کھلانا معمولی کام نہیں۔پھر نائیجیریا کے ایک مشہور ٹیلیویژن ایم آئی ٹی وی (MITV) کے چیئر مین مرہی بساری (Murhi Busari) صاحب یہاں آئے تھے۔یہ الحاج ہیں، انہوں نے حج کیا ہوا ہے۔یہ کہتے ہیں جلسہ سالانہ میں شرکت کر کے مجھے یوں محسوس ہوا کہ میں عرفات کے مقام پر ہوں اور ہر طرف پیار محبت اور خوشی بکھر رہی ہے۔ایسا نظارہ میں نے دنیا میں کبھی نہیں دیکھا اور خدام بڑی عمدگی سے ڈیوٹی دے رہے تھے۔اطاعت کے جذبے سے سرشار تھے۔اطاعت امام کا جو نظارہ میں نے جماعت احمدیہ کے خلیفہ اور اس کی جماعت میں دیکھا ہے وہ کہیں نہیں دیکھا۔۔اسلام کے اسی پیغام کی دنیا کو آج ضرورت ہے کونگو کنسا شا سے جسٹس نول کی لومبا Noel Kiloma Ngoz Mala صاحب آئے ہوئے تھے جو کانسٹی ٹیوشنل کورٹ کے جج ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت جج خدا تعالیٰ نے مجھے اتنی