خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 511
خطبات مسرور جلد 13 511 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء کونسل نے معین دن دیئے ہوتے ہیں کہ ان میں یہ سارا کچھ سمیٹنا ہے۔اگر یہ کام معینہ وقت میں نہ کیا جائے، نہ سمیٹا جائے تو آئندہ سال کے لئے جلسے کی اجازت میں مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔غرضیکہ ہر کام ہی بہت اہم کام ہے۔اس سال کینیڈا کے خدام کی ایک ٹیم نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا کہ ہم جلسے پر کام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں وائنڈ آپ کی ٹیم میں رکھا گیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بھی بھر پور مدد کی۔یو کے کے علاوہ باقی جگہوں پر اتنا وسیع انتظام نہیں کرنا پڑتا اس لئے ان کینیڈا سے آئے ہوؤں کے لئے نیا تجربہ تھا لیکن پھر کافی پر جوش طریقے پر اور بڑی محنت سے انہوں نے کام کیا۔یو کے کی خدام الاحمدیہ کی ٹیموں کے ساتھ ہمیں کینیڈا کے اس گروپ کا بھی ، خدام کا بھی شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے ہماری مدد کی۔بہر حال یہ سب لوگ چاہے مرد ہیں یا عورتیں ہیں ہم سب ان کے شکر گزار ہیں اور یہ شکر گزاری کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔کارکنوں کی طرف سے میں ان سب مہمانوں کا شکر یہ بھی ادا کر دیتا ہوں جنہوں نے تعاون کیا۔چند ایک کے علاوہ عمومی طور پر کوئی شکایت نہیں آئی۔اگاؤ گا تو شکایات آتی ہیں۔مہمانوں کے تاثرات اس وقت میں اسی شکر گزاری کے مضمون کے سلسلے میں مہمانوں کے تاثرات بیان کرتا ہوں جو دوسرے ممالک سے آئے۔ان میں سیاستدان بھی تھے۔ان میں کچھ ملکوں کے وزراء بھی تھے۔بڑے عہدیدار بھی تھے۔انسان جب ان کی باتیں سنتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کی شکر گزاری میں مزید ڈوب جاتا ہے۔اتنے بڑے انتظام میں بعض کمزوریاں بھی ہوتی ہیں اور یہ بہر حال قدرتی بات ہے لیکن اللہ تعالیٰ کس طرح ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے کہ مہمانوں کو صرف اچھائیاں نظر آتی ہیں اور کمزوریاں پردے میں چلی جاتی ہیں۔یو گنڈا سے مسٹر ولسن مور ولی (Wilson Muruli) صاحب جو کہ منسٹر آف Gender ہیں جلسے میں شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ مہمان نوازی، سیکیورٹی نظم وضبط کے انتظامات دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ کس طرح لوگ رضا کارانہ طور پر اتنی قربانی کر رہے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ میں ایک ایسے جلسے میں شامل ہونے جا رہا ہوں جہاں انسان نہیں بلکہ فرشتے کام کرتے نظر آئیں گے۔میں نے نہ رات کولوگوں کو سوتے دیکھا، نہ دن کو۔ہر وقت خدمت کے لئے تیار کھڑے ہیں۔نہ جھکتے ہیں نہ اُکتاتے ہیں۔ہمیں دفعہ بھی کوئی چیز مانگو تو مسکرا کر پیش کر دیتے ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہاں ریویو آف ریلیجنز اور مختلف تصاویر کی نمائش بھی دیکھی۔ہیومینٹی فرسٹ کے سٹال پر بھی گئے۔وہ کہنے لگے کہ جس نہج پر جماعت احمد یہ کام کر رہی ہے اس سے