خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 513
خطبات مسرور جلد 13 513 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء فراست دی ہے کہ دیکھ سکوں کہ کہاں حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے اور کہاں اظہار حق کیا جا رہا ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جس اسلام کا مجھے تعارف کروایا گیا تھا اس کا عملی نمونہ میں نے جلسے میں شامل ہو کر دیکھ لیا ہے۔میرے دل میں اگر کوئی شک تھا تو اب دُور ہو گیا ہے۔دراصل حقیقی اسلام یہی ہے جو جماعت احمد یہ پیش کر رہی ہے۔اسلام کے اسی پیغام کی آج دنیا کو ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کا مستقبل اسی پیغام سے وابستہ ہے۔اسی اسلام کی ہمیں ضرورت ہے۔ہمیں دہشت گردوں کا اسلام نہیں چاہئے۔سیرالیون کے وائس پریذیڈنٹ بھی جلسے میں شامل ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ بہت عظیم الشان ہے اور ساری قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔مجھے جلسے میں شامل ہو کر بہت محبت ملی ہے۔مکینی سیرالیون کا شہر ہے وہاں کے میئر شامل ہوئے۔کہتے ہیں تینوں دن روحانیت سے بھر پور تھے اور میری زندگی میں عظیم انقلاب پیدا کرنے کا موجب بنے ہیں۔میں نے کبھی لوگوں کو اس طرح ایک دوسرے سے پیار کرتے نہیں دیکھا۔سیرالیون سے ڈپٹی منسٹر آف سپورٹس آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ جلسہ سالانہ میں شمولیت میری زندگی کا انوکھا تجربہ تھا۔چھوٹے ، بڑے اور بوڑھے سب لوگ آگے بڑھ بڑھ کر مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر مہمانوں کی خدمت کر رہے تھے۔میں نے آج تک کسی بھی مذہبی یا سیاسی جلسے میں اس قدر مہمانوں کی عزت اور محبت نہیں دیکھی۔بینن کے نیشنل اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ایک ہندے(Eric Houndete) صاحب آے ہوئے تھے کہتے ہیں کہ سب سے بڑی بات جو میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کے افراد اپنے خلیفہ سے بہت محبت کرتے ہیں۔یہ چیز کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملے گی۔کہتے ہیں میں نے اس جلسے میں شامل ہو کر اپنی زندگی کے بہترین لمحات گزارے ہیں۔میں نے تمام انتظامات کا جائزہ لیا ہے۔ہر چیز میں مجھے حسنِ انتظام ہی نظر آیا۔پینتیس ہزار سے زائد افراد کے جلسے میں ٹرانسپورٹ کا بہترین انتظام تھا اور ٹریفک کو بڑی مہارت سے گائیڈ کیا جارہا تھا۔اتنی بڑی تعداد کے باوجود صفائی کا معیار بھی اچھا تھا۔کہیں گندگی نظر نہیں آئی۔ان تمام انتظامات پر پانچ ہزار سے زائد جماعت احمدیہ کے لوگ رضا کارانہ طور پر کام کر رہے تھے اور ان رضا کاروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل تھے ، بوڑھے بھی شامل تھے، جوان بھی شامل تھے، مرد عور تیں اور کم عمر بچے بھی شامل تھے۔کہتے ہیں کہ یہ ایک غیر معمولی بات ہے جو کسی بھی مذہبی