خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 465
خطبات مسرور جلد 13 465 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 اگست 2015ء حضرت مولوی برہان الدین صاحب کی نیک فطرت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تیز چلنے کو ہی صداقت کا نشان سمجھ لیا۔اللہ تعالیٰ کے خاص پیار کی نظر تھی جو حضرت مولوی صاحب پر پڑی ورنہ تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دلائل سن کر ، نشان دیکھ کر پھر بھی نہیں مانتے۔یہ بھی درست نہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ سارے وہابی سخت دل ہو گئے ہیں یا ہوتے ہیں۔افریقہ میں ہزاروں ایسے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے قائل ہوئے اور آپ کی بیعت میں آئے۔وحی والہام کی ہر وقت ضرورت کا ان لوگوں کو احساس ہوا اور یہ بھی پتا چلا کہ اولیاء اور انبیاء بارش کی طرح ہیں جن کے آنے سے زمین سرسبز و شاداب ہوتی ہے۔پس روحانی سرسبزی کے لئے الہام کا جاری رہنا بھی ضروری ہے۔دو د پھر آپ ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جو حضرت سیٹھ عبدالرحمن مدراسی کے اخلاص اور قربانی کا ہے۔سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدی ہوئے۔ان میں بڑا اخلاص تھا اور خوب تبلیغ کرنے والے تھے۔ان کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑے درد سے سنایا کرتے تھے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) اور مجھے بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو ان کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ابتداء میں ان کی مالی حالت بڑی اچھی تھی اور اس وقت وہ دین کے لئے بڑی قربانی کرتے تھے۔تین سو، چارسو، پانچ سو روپیہ تک ماہوار چندہ بھیجتے تھے۔خدا کی قدرت وہ بعض کام غلط کر بیٹھے ( یعنی تجارتی لحاظ سے انہوں نے غلط کام کئے۔اور جو فیصلے تھے وہ غلط کئے ) اور اس وجہ سے ان کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام انہیں کے متعلق ہوا تھا کہ قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے جب یہ الہام ہوا تو پہلے مصرعہ کی طرف ہی خیال گیا اور قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بنادے سے یہ سمجھا گیا کہ سیٹھ صاحب کا کاروبار پھر درست ہو جائے گا اور دوسرے مصرعہ بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوئے، کی طرف (کسی کا ) ذہن نہ گیا کہ پہلے کام بن کر اور پھر بگڑ بھی جائے گا۔بلکہ اسے ایک عام اصول سمجھا گیا۔سیٹھ صاحب کے کاروبار کو دھکا لگنے کے بعد دو تین سال حالت اچھی ہوگئی۔(جب یہ الہام ہوا اس کے بعد کاروبار پھر چمک اٹھا۔حالت اچھی ہو گئی مگر پھر (دوبارہ) خراب ہوگئی اور یہاں تک حالت پہنچ گئی کہ بعض