خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد 13 466 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء اوقات کھانے پینے کے لئے بھی ان کے پاس کچھ نہ ہوتا۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عجیب محبت کے رنگ میں ان کا ذکر کیا۔فرمایا سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب کا اخلاص کتنا بڑھا ہوا تھا۔پانچ سوروپے کی رقم تھی جو انہوں نے اس موقع پر بھیجی تھی۔کوئی رقم آئی تھی اس کو دیکھ کر ذکر ہوا تھا) کسی دوست نے ان کی مشکلات کود یکھ کر دو تین ہزار روپیہ انہیں دیا کہ کوئی تجارتی کام شروع کر دیں یا برتنوں کی دکان کھولیں۔اس میں سے پانچ سو روپیہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوادیا اورکھا کہ مدت سے میں چندہ نہیں بھیج سکا۔اب میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے ایک رقم بھجوائی ہے تو میں اس میں سے دین کے لئے کچھ نہ دوں۔غرض خدمت دین کے لئے ان کا اخلاص بہت بڑھا ہوا تھا۔“ (خطبات محمود جلد 3 صفحہ 542) پھر ان کے بارے میں مزید ایک جگہ تفصیل بیان کرتے ہوئے کہ ان کو اپنی مالی قربانی کا در دکس قدر تھا یعنی کس قدر درد سے قربانی کیا کرتے تھے اور نہ کرنے پر کس قدر بے چین ہوتے تھے۔ان کی کیا حالت ہوتی تھی؟ اور اس کا اظہار وہ دوسرے سے بھی کس طرح کیا کرتے تھے ؟ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ جب ان کی مالی حالت بہت خراب ہو گئی جیسا کہ ذکر ہوا کہ بعض دفعہ کھانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے اور بعض دوست ان کی مدد کرتے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام ایک غیر احمدی کا منی آرڈر آیا جس نے لکھا تھا کہ سیٹھ عبدالرحمن میرے بڑے دوست تھے مجھے ان پر بہت حسن ظنی ہے اور ان کو بزرگ سمجھتا ہوں اور ان کا عقیدت مند ہوں۔( یہ غیر احمدی لکھتے ہیں کہ) ایک روز میں نے ان کو بہت افسردہ دیکھا ( سیٹھ صاحب کو ) اور اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ جب میرے پاس روپیہ تھا تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں دین کے لئے بھیجا کرتا تھا مگر اب نہیں بھیج سکتا۔( یہ غیر احمدی کہتے ہیں کہ ) ان کی اس بات کا میری طبیعت پر بڑا اثر ہوا اور میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کو دو یا تین سور و پیہ ماہوار بھیجا کروں گا۔چنانچہ اس غیر احمدی نے آپ کو روپیہ بھیجنا شروع کر دیا۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ) ایک دفعہ سیٹھ صاحب کی طرف سے ایک منی آرڈر آیا جو شاید تین یا چارسو کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو فرمایا۔یہ منی آرڈر سیٹھ صاحب کا ہے ان کی مالی حالت تو بڑی خطرناک ہے۔(پھر کس طرح بھیج دیا ہے؟ ) بعد میں ان کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ مجھے پر کچھ قرض ہو گیا تھا جسے اتارنے کے لئے میں نے اپنے دوست سے کچھ روپیہ لیا۔پھر مجھے خیال آیا