خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 464
خطبات مسرور جلد 13 464 خطبه جمعه فرموده مورخه 07 اگست 2015ء حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ” ایک لطیفہ ہی ہے۔کہتے تھے کہ میں قادیان میں آیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تھے اس لئے وہاں گیا۔جس مکان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہرے ہوئے تھے اس کے ایک طرف باغ تھا۔حامد علی (مرحوم) دروازے پر بیٹھا تھا۔( یہ وہ بیان کرتے ہیں ) تو اس نے مجھے ( یعنی مولوی صاحب کو ) اندر جانے کی اجازت نہ دی۔مگر وہ کہتے ہیں کہ میں چھپ کر دروازے تک پہنچ گیا۔آہستگی سے دروازہ کھول کر جو دیکھا تو حضرت صاحب ٹہل رہے تھے اور جلدی جلدی لمبے لمبے قدم اٹھاتے تھے۔(یہ واقعہ پہلے بھی کئی دفعہ ہم سن چکے ہیں۔حضرت مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ) میں جھٹ پیچھے کو مڑا اور میں نے سمجھ لیا کہ یہ شخص صادق ہے جو جلدی جلدی ٹہل رہا ہے ضرور اس نے کسی دُور کی منزل پر ہی پہنچنا ہے تبھی تو یہ جلدی جلدی چل رہا ہے۔۱ ( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) وہابی ہوکر حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی وہابی تھے) مولوی صاحب کا اس قسم کا خیال کرنا عجیب ہی بات ہے ورنہ عموماً یہ لوگ خشک ہوتے ہیں“۔( یعنی وہابی لوگ عموما خشک ہوتے ہیں۔شدت پسند ہی ہوتے ہیں۔) (ماخوذ از الفضل 17 اپریل 1922ء صفحہ 6 جلد 9 نمبر 81) اب دیکھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب کو صداقت کی پہچان کروائی تھی تو نہ ان کو کسی قرآنی دلیل کے سمجھنے کا خیال آیا، نہ کسی حدیث کی دلیل کے سمجھنے کا ، نہ کسی اور قسم کی دلیل کا خیال آیا۔وہابی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بڑی شدت سے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ وحی و الہام کے دروازے بند ہو گئے ہیں۔پھر ایسے خیالات بھی ہیں کہ نعوذ باللہ نبی یاولی کو ہم پر کیا فضیلت ہے۔جس طرح ہم ہیں، جس طرح باقی لوگ ہیں اسی طرح نبی بھی انسان ہے، ولی بھی انسان ہے۔میں مختصر بیان بھی کر دوں شاید بعضوں کو نہ پتا ہو۔ان کے اس غلط تصور کو رڈ کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ : ” انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے۔وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔اپنے جیسا سمجھ لینا ( یعنی وہابیوں کا یہ خیال کہ وہ ہمارے جیسے ہی ہوتے ہیں۔انسان ہیں ) ظلم ہے۔اولیاء اور انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔(ملفوظات جلد 5 صفحہ 213 حاشیہ ) اب یہ خاص چیز ہے کہ انبیاء اور اولیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔بہر حال دیگر مستند تاریخی روایات سے ثابت ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس وقت ہوشیار پور میں تشریف فرما تھے۔خطبات محمود میں گورداسپور لکھا ہوا ہے جو کہ ہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔خطبات محمود جلد 2 ص 383 میں یہی واقعہ بیان ہوا ہے وہاں ہوشیار پور ہی لکھا ہوا ہے۔مرتب سید مبشر احمد ایاز