خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 29 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 29

خطبات مسرور جلد 13 29 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء ہے یہ تو میں نے دینا ہی دینا ہے۔گھر کا اللہ تعالیٰ خود انتظام کرے گا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ اگلے ماہ حکومت کے صحت کے ادارے کی طرف سے انہیں خط موصول ہوا کہ آپ کی میڈیکل کی رپورٹ دیکھتے ہوئے ہم نے آپ کو دو سال کا خرچ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں تین ماہ کی ادائیگی بھی ساتھ ہی ارسال کر دی۔جب اس رقم کو دیکھا تو یہ اس رقم سے سو گنا زیادہ تھی جو انہوں نے وقف جدید میں دی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے مالی قربانی کا پھل ایک ماہ کے اندر عطا کر دیا۔لجنہ یوکے(UK) کی جو سیکرٹری تحریک جدید ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ یہاں کی ایک حلقے کی سیکرٹری وقف جدید نے انہیں کہا کہ ایک خاتون مالی لحاظ سے بہت کمزور ہیں۔چندہ نہیں ادا کر سکتی تھیں تاہم پھر بھی جتنا کم از کم ممکن ہوسکتا تھا انہوں نے وعدہ لکھوا دیا۔تو وہ خاتون کہتی ہیں کہ وعدہ لکھوانے کے بعد انہوں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس وعدے کو پورا کرنے کی توفیق دے۔یہ خاتون سلائی کرنا جانتی تھیں۔چنانچہ چند ہی دنوں بعد انہیں سلائی کے آرڈر ملنے شروع ہوئے اور اس کے بعد نہ صرف وہ اپنا وعدہ ادا کرنے کے قابل ہو گئیں بلکہ اس سے کافی زیادہ آمد ہو گئی۔لہذا انہوں نے اپنا وعدہ بھی بڑھا دیا۔یہاں یہ بھی بتا دوں کہ تحریک جدید میں بھی اور وقف جدید میں بھی یو۔کے کی لجنہ نے ماشاء اللہ بہت محنت اور ہمت سے صرف ٹارگٹ نہیں پورے کئے بلکہ ٹارگٹ سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے رقم ادا کی ہے۔امیر صاحب بینن لکھتے ہیں کہ بین کے نارتھ اور سینٹر میں بڑی تعداد میں فولانی قبیلہ آباد ہے۔گزشتہ سالوں میں اس قبیلے میں بھی بیعتیں ہوئیں تھیں۔اس قبیلے کے تین گاؤں اس علاقے کے مولویوں کی مخالفت اور شدید دباؤ کی وجہ سے بیعت کے کچھ عرصے بعد پیچھے ہٹ گئے تھے۔بورکینا فاسو سے فولانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک معلم کو بہین بھیجا گیا تا کہ وہ اس علاقے میں رابطہ کر کے ان لوگوں کی غلط فہمیاں دور کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک ماہ اس علاقے میں کام کیا اور یہ تینوں گاؤں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوبارہ جماعت میں داخل ہوئے اور ان کے ایمان میں بڑی ترقی ہوئی۔یہ تینوں گاؤں ٹرانسپورٹ کے لئے بسوں پر ایک بڑی رقم خرچ کر کے خود بینن کے جلسے میں شامل ہوئے اور جلسہ کے بعد واپس اپنے گاؤں پہنچے تو کچھ ہی دنوں بعد جماعت کے معلم ان کے گاؤں گئے اور میری طرف سے ان کو یہ بتایا کہ میں نے کہا ہے کہ نو مبائعین کو مالی قربانی میں شامل کریں، چاہے تھوڑا ہی دیں۔اب یہ دسمبر کا مہینہ ہے اور چندہ وقف جدید کی ادائیگی کا آخری مہینہ ہے تو کہتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ انہوں نے جلسے کے لئے ٹرانسپورٹ کی بڑی رقم خرچ کی تھی اور مالی تنگی بھی تھی لیکن ایمان میں اس قدر جوش تھا کہ یہ بات سن کر فوراً انہوں نے ،