خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 28
خطبات مسرور جلد 13 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء کو بتایا تو اسی وقت موصوف نوجوان نے دولاکھ روپیہ اپنا بجٹ لکھوایا اور کہا کہ اب کام شروع کیا ہے۔خدا جانے وعدہ کہاں سے پورا ہوگا۔پھر کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے بھی خط لکھا۔انسپکٹر صاحب نے ان کو تحریک کی کہ دعا کے لئے مجھے لکھیں اور وہ خود بھی لکھیں گے۔انسپکٹر صاحب کہتے ہیں چنانچہ جب دوبارہ وصولی کے سلسلے میں وہاں گیا تو انہوں نے خوشی سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقریباً کئی بنکوں سے مجھے انٹیریئر (interior) ڈیزائننگ کا کام ملا اور جس سے آمدنی میں بہت برکت ملی ہے اور اسی وقت انہوں نے اپنا وعدہ جو دولاکھ روپیہ تھا مکمل طور پر ادا کر دیا۔پھر انڈیا سے ہی نائب ناظم مال وقف جدید لکھتے ہیں کہ صوبہ اتر پردیش کے مالی دورے کے دوران محمد فرید انور صاحب سیکرٹری مال کانپور سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے اپنا وعدہ وقف جدید کی مکمل ادائیگی کر دی اور ساتھ ہی شام اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔چنانچہ شام کو گھر پہنچا تو موصوف نے بتایا کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی دو دن سے خاکسار کا انتظار کر رہی تھی۔بچی کا نام سجیلہ ہے۔چنانچہ سجیلہ خاموشی سے اندر کمرے میں گئی۔اور تھوڑی دیر بعد جب باہر آئی تو ہاتھ میں اس کے غلہ تھا اور خاکسار کو دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پورے سال میں اس میں چندے دینے کے لئے رقم جمع کی ہے۔آپ اس سے ساری رقم نکال لیں اور رسید دے دیں۔اس میں سات سو پینتیس (735) روپے تھے۔کہتے ہیں مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک آٹھ سال کی بچی ہے اور اللہ کے فضل سے وقف نو کی تحریک میں بھی شامل ہے۔اپنا وعدہ وقف جدید خود لکھوا کر اس کی ادائیگی اپنے وعدے سے زیادہ کرتی ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ یہ روح جو بچوں میں پیدا ہو رہی ہے یہ کون کر سکتا ہے؟ صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہے جو بچوں کے دل میں ڈالتا ہے۔لیکن والدین کا بھی کام ہے کہ گھر کے ماحول کو دینی رکھیں اور باقی نیکیوں کے ساتھ ، عبادتوں کے ساتھ چندوں کی اہمیت کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً بچوں کے دلوں میں ڈالتے رہیں۔ایسے بھی واقعات ہیں کہ بچے جب چندہ لے کر آئے اور انہیں کہا گیا کہ آپ کے والد نے آپ کی طرف سے چندہ دے دیا ہے تو کہنے لگے کہ جو والد صاحب نے دیا ہے اس کا ثواب تو والد صاحب کو ہوگا ہم تو اپنے جیب خرچ میں سے خود ادا کریں گے۔فرانس کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ ایک دوست کو جب چندہ وقف جدید کے بارے میں بتایا گیا تو کہتے ہیں کہ میرے پاس اس وقت جو بھی رقم تھی وہ ساری چندے میں دے دی۔گھر والوں نے کہا کچھ تو رکھ لو۔گھر کا خرچ کیسے چلے گا؟ کہتے ہیں میں نے کہا کہ وقف جدید کے چندہ کا میں نے وعدہ کیا ہوا