خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 27
خطبات مسرور جلد 13 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء لئے آیا ہوں۔لیکن کہتے ہیں لوگ خود ہی مجھے دیکھ کر چندے کے بارے میں پوچھتے اور میں حیران رہ گیا کہ لوگ بڑی خوشی سے اپنے بقایا چندے ادا کر رہے ہیں اور ان کے چہروں پر اتنی تکلیف کے باوجود کوئی شکن تک نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سرینگر کا بجٹ مکمل ہو گیا۔یہ نظارہ دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم کی یاد آتی تھی جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا مگر قربانیوں میں سبقت لے جایا کرتے تھے۔حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت کو دیکھ کر ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ببینن سے ہمارے معلم لکھتے ہیں۔ایک نو مبائع با قاعدگی سے اس نیت کے ساتھ چندہ ادا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی فیملی کو احمدی بنا دے۔وہ احمدی ہو گئے۔فیملی احمدی نہیں تھی۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے چندے دینے کی برکت سے میری ساری فیملی احمدی ہو گئی ہے۔اس خواب سے مجھے انہیں تبلیغ کرنے کی تحریک پیدا ہوئی۔پہلے تبلیغ نہیں کرتے تھے۔لیکن خواب کی وجہ سے پھر انہیں تبلیغ بھی کرنی شروع کر دی۔کہتے ہیں چنانچہ میں نے انہیں تبلیغ کی اور اس مقصد کے لئے بھی خاص طور پر چندہ دینا شروع کر دیا اور آج میں یہ بتانے میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ میری ساری فیملی احمدی ہو چکی ہے۔یہ محض دین کی راہ میں مالی قربانی کی برکت سے ہوا۔بیشن سے گوگورو ( Gogoro) گاؤں کی ایک خاتون شابی لیما تا (Chabi Limita) صاحبہ ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ گزشتہ سال میری یہ حالت تھی کہ میں جو کام یا کاروبار شروع کرتی ، خسارہ اٹھاتی اور کوئی بھی کام سرے نہ چڑھتا۔ایک دن معلم صاحب نے مجھے دیانتداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے اور با قاعدگی اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی تو میں نے سوچا کہ چلو یہ بھی کر کے دیکھ لیتے ہیں کہ صحیح طرح ایمانداری سے جو آمد ہے اس پر چندہ دوں تو کیا فائدہ ہوتا ہے۔کہتی ہیں جب سے میں نے با قاعده چنده دینا شروع کیا ہے میرا کاروبار چلنے لگا ہے۔گھر میں مالی فراخی ہے۔میرے سارے کام درست ہونے لگے ہیں۔خدا کا وعدہ سچا ہے کہ وہ خرچ کرنے والوں کو بہت دیتا ہے۔پھر انڈیا سے ہی قمر الدین صاحب انسپکٹر کہتے ہیں کیرالہ کے صوبہ میں مالی سال کے شروع میں وقف جدید کا بجٹ بنانے کے سلسلے میں ایک جماعت میں پہنچا جہاں ایک چھبیس سالہ نوجوان سے ملاقات ہوئی۔موصوف نے کہا کہ میں نے انٹیریئر (interior) ڈیزائننگ میں پڑھائی مکمل کی ہے اور اپنے والد صاحب کے ساتھ کاروبار شروع کرنے لگا ہوں۔چندہ وقف جدید کی اہمیت کے بارے میں ان