خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 439

خطبات مسرور جلد 13 439 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء الفاظ دہرا دیئے تو اس پر میر صاحب نے خود بھی اسے دو چار تھپڑ لگا دیئے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ) بسا اوقات انسان اس قسم کے بھی کام کر لیتا ہے جو لغو ہوتے ہیں۔دراصل رو چلنے کی دیر ہوتی ہے۔جب رو چل جائے تو لوگ خود بخو داس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔(ماخوذ از الفضل 5 جون 1948 ء صفحہ 6 نمبر 127 جلد 2) لیکن پھر بھی میں اپنے جذبات پر کنٹرول کی عادت ہونی چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک اور صحابی حضرت منشی اروڑے خان صاحب کے آپ سے عشق کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ منشی اروڑے خان صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق تھا۔وہ کپورتھلہ میں رہتے تھے اور کپورتھلہ کی جماعت کی اخلاص کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس قدر تعریف فرمایا کرتے تھے کہ آپ نے انہیں ایک تحریر بھی لکھ دی تھی جو انہوں نے ( یعنی جماعت نے) رکھی ہوئی ہے کہ اس جماعت نے ایسا اخلاص دکھایا ہے کہ یہ جنت میں میرے ساتھ ہوں گے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بار بار درخواست کرتے کہ حضور کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔آپ نے بھی وعدہ کیا ہوا تھا۔جب موقع ہوا آئیں گے۔ایک بار جو فرصت ملی تو اطلاع دینے کا وقت نہیں تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بغیر اطلاع کے چل پڑے اور کپورتھلہ کے اسٹیشن پر جب اترے تو ایک شدید مخالف نے آپ کو دیکھا جو آپ کو پہچانتا تھا۔اگر چہ وہ مخالف تھا مگر بڑے آدمیوں کا ایک اثر ہوتا ہے۔منشی اروڑ ا صاحب سناتے ہیں کہ ہم ایک دکان پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا کہ تمہارے مرزا صاحب آئے ہیں۔یہ سن کر جوتی اور پگڑی وہیں پڑی رہی اور میں ننگے پاؤں اور ننگے سرسٹیشن کی طرف بھاگا۔مگر پھر تھوڑی دور جا کر خیال آیا کہ ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔اطلاع دینے والا مخالف ہے اس نے محول کیا ہوگا۔مذاق کیا ہوگا۔اس پر میں نے کھڑے ہوکر اسے ڈانٹنا شروع کر دیا۔منشی صاحب کہتے ہیں میں نے اس شخص کو ڈانٹنا شروع کر دیا کہ تو جھوٹ بولتا ہے مذاق اڑاتا ہے۔مگر پھر خیال آیا کہ شاید آ ہی گئے ہوں اس لئے پھر بھاگا۔پھر خیال آیا کہ ہماری ایسی قسمت نہیں ہوسکتی اور پھر اسے کو سنے لگا۔وہ کہے مجھے برا بھلا نہ کہو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔اس پر پھر چل پڑے۔غرضیکہ میں کبھی دوڑتا اور کبھی کھڑا ہو جاتا اسی حالت میں جار ہا تھا کہ سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں۔تو یہ جنون ہونے والا عشق ہے اور ان کے معشوق