خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 438
خطبات مسرور جلد 13 438 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوبھی آپ سے ویسی ہی محبت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا طریق تھا کہ مغرب کی نماز کے بعد ہمیشہ بیٹھ کر باتیں کرتے۔لیکن مولوی صاحب کی وفات کے بعد آپ نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔کسی نے عرض کیا کہ حضور اب بیٹھتے نہیں؟ تو فرمایا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی جگہ کو خالی دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے۔حالانکہ کون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوحی اور دوبارہ زندگی دینے والا یقین کرتا ہو۔پس یہ یکطرفہ عشق نہیں تھا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 122) آپ علیہ السلام کو اپنے صحابہ سے بہت محبت تھی۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ ایک شخص نے کچھ بیجا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے متعلق کہے۔لوگوں نے اسے مارنا شروع کر دیا۔وہ شخص ضدی تھا۔لوگ اسے مارتے جاتے مگر وہ یہی کہتا جاتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اسے پھر مارنا شروع کر دیتے اور یہ جھگڑا بڑھ گیا۔( حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں) ہم اس وقت چھوٹی عمر کے تھے۔ہمارے لئے ایک تماشا بن گیا۔وہ مارکھا تا جا تا اور کہتا جاتا کہ میں تو یہی کہوں گا۔لوگ اسے مارتے یہاں تک کہ وہ اسے مار مار کر تھک گئے۔ان دنوں ایک غیر احمدی پہلوان حضرت خلیفہ اسیح الاول کے پاس علاج کے لئے آیا ہوا تھا۔خلافت سے پہلے حضرت مسیح موعود کے زمانے میں۔) اس نے جب یہ شور سنا تو ( وہ سمجھا کہ یہ بھی کوئی ثواب کا کام ہے۔اس نے ) خیال کیا کہ میں کیوں اس ثواب سے محروم رہوں، مجھے بھی اس میں حصہ لینا چاہئے۔چنانچہ وہ بھی گیا اور اس شخص کو بات کا پتا نہ تھا۔اس نے اس کو اٹھایا اور جھمپیری کی طرح گھما کے زمین پے دے مارا۔لیکن وہ بھی بڑا ضدی شخص تھا۔وہ گر کے پھر یہی کہتا تھا میں تو یہی کہوں گا۔تو حضرت مصلح موعود کہتے ہیں ہمارے لئے ایک تماشا بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب معلوم ہوا تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ کیا ہماری یہی تعلیم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دیکھو لوگ ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن ہمارا اس سے کیا بگڑ جاتا ہے۔اگر اس نے کچھ بیجا الفاظ مولوی عبد الکریم صاحب کے متعلق بھی استعمال کر دیئے تو کیا ہو گیا؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اور تو اور ہمارے نانا میر ناصر نواب صاحب نے جب یہ دیکھا تو آپ وہاں گئے اور لوگوں سے کہا۔تم لوگ یہ کیا لغو بات کر رہے ہو؟۔کیوں تم اس شخص کو مارنے لگ گئے ہو؟ مگر ابھی آپ لوگوں کو یہ نصیحت کر ہی رہے تھے کہ اس شخص نے مولوی عبدالکریم صاحب کے متعلق پھر وہی