خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 440
خطبات مسرور جلد 13 440 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء ہونے کا خیال آتا تو دل کہتا کہ وہ ہمارے پاس کہاں آ سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے ہیں تو کچھ عرصے بعد منشی اروڑے خان صاحب قادیان آگئے تھے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔میں جب ان سے ملنے کے لئے باہر آیا تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں دو یا تین اشرفیاں تھیں جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے دیں کہ اتاں جان کو دے دیں۔مجھے اس وقت یاد نہیں کہ وہ کیا کہا کرتے تھے ، اماں جان یا اماں جی مگر بہر حال ماں کے مفہوم کا لفظ ضرور تھا۔اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کیا اور چنیں مار مار کر اس شدت کے ساتھ رونے لگے کہ ان کا تمام جسم کانپ رہا تھا۔اگر چہ مجھے یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یادا نہیں رلا رہی ہے مگر وہ کچھ اس بے اختیاری سے رو رہے تھے کہ میں نے سمجھا کہ اس میں کسی اور بات کا بھی دخل ہے۔غرضیکہ وہ دیر تک کوئی پندرہ بیس منٹ بلکہ آدھا گھنٹہ تک روتے رہے۔میں پوچھتا رہا کہ کیا بات ہے۔وہ جواب دینا چاہتے مگر رفت کی وجہ سے جواب نہ دیتے۔آخر جب ان کی طبیعت سنبھلی تو انہوں نے کہا کہ میں نے جب بیعت کی اس وقت میری تنخواہ سات روپیہ تھی اور اپنے اخراجات میں ہر طرح سے تنگی کر کے اس کے لئے کچھ نہ کچھ بچاتا کہ خود قادیان جا کر حضور کی خدمت میں پیش کروں اور بہت سا رستہ میں پیدل طے کرتا تا کہ کم سے کم خرچ کر کے قادیان پہنچ سکوں۔پھر ترقی ہو گئی اور ساتھ اس کے یہ حرص بھی بڑھتی گئی یعنی دینے کی۔آخر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں حضور کی خدمت میں سونا نذر کروں۔جو تھوڑی سی تنخواہ میں سے علاوہ چندہ کے پیش کرنا چاہتا تھا لیکن جب تھوڑا تھوڑا کر کے کچھ جمع کر لیتا تو پھر گھبراہٹ سی پیدا ہوتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھے اتنی مدت ہو گئی ہے اس لئے قبل اس کے کہ سونا حاصل کرنے کے لئے رقم جمع ہو قادیان چلا آتا اور جو کچھ پاس ہوتا حضور کی خدمت میں پیش کر دیتا۔آخر یہ تین پاؤنڈ جمع کئے تھے اور ارادہ تھا کہ خود حاضر ہو کر پیش کروں گا کہ آپ کی وفات ہو گئی۔گویا ان کے تیس سال اس حسرت میں گزر گئے۔انہوں نے اس کے لئے محنت بھی کی لیکن جس وقت اس کی توفیق ملی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو چکے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 178 تا180) یہ تھا ان لوگوں کا اخلاص اور وفا اور قربانی۔عربی کے بعض حروف ایسے ہیں جن کی خاص ادائیگی ہے