خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 26
خطبات مسرور جلد 13 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جنوری 2015ء کانگو کنشاسا کے ہی مبلغ لکھتے ہیں کہ صوبہ با کونگو سے مبانزا گنگو (Mbanza Ngungu) جماعت کے رہائشی مصطفی صاحب ہیں۔اس سال رمضان میں انہوں نے بیعت کی۔اس دوران ان کی بہن جو کہ عیسائی تھی بہت بیمار رہنے لگی اور ایک بڑی رقم ان کے علاج کے لئے صرف ہونے لگی۔چنانچہ اسی ماہ جب انہوں نے مسجد میں مالی قربانی کی تحریک سنی تو چندہ ادا کیا اور اپنی بہن کی طرف سے بھی صحت کی دعا کرتے ہوئے چندہ ادا کر دیا۔چنانچہ اس کے بعد ان کی بہن صحت یاب ہوگئیں۔خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مالی قربانی کی برکت ہے جو خدا کی راہ میں کی۔پھر مالی کے امیر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہاں کے ایک احمدی محمد جارا صاحب جماعتی چندہ دینے سے پہلے بہت غریب تھے مگر جب سے انہوں نے جماعتی چندہ ادا کرنا شروع کیا ہے ان کی غربت دُور ہونا شروع ہو گئی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی میں اب بعض احباب بہت نمایاں مالی قربانی کرنے لگے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے ایک نوجوان داؤ سالف (Dao Salif) صاحب جو غریب مستری ہیں انہوں نے شروع میں ایک ہزار فرانک سیفا ہفتہ وار چندہ دینا شروع کیا اور ان کے کام میں اور اخلاص میں اتنی برکت ہوئی کہ کچھ دن پہلے انہوں نے ایک لاکھ ترپین ہزار فرانک چندہ دیا جو کہ دوسو دو پاؤنڈ کے برابر بنتا ہے۔نومبائعین میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے چندے کا رجحان اب ترقی کر رہا ہے اور بڑے اخلاص سے وہ چندہ دیتے ہیں۔اسی طرح جماعت کے ایک اور مخلص فوفانہ صاحب ہیں۔ہر ماہ ایک لاکھ پچاس ہزار فرانک، تقریباً دوسو پاؤنڈ ادا کرتے ہیں۔یہ ان غریب ممالک میں بڑی بڑی رقمیں ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے دولاکھ پچاس ہزار فرانک تقریباً تین سو تیس پاؤنڈ زکوۃ کی بھی ادائیگی کی۔اور اللہ کے فضل سے ایمان اور ایقان میں ترقی کر رہے ہیں۔ہندوستان کے کشمیر کے انسپکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ دنوں صو بہ کشمیر میں جو سیلاب آیا تھا اس سے شہر سرینگر کے تقریباً تمام احمدی گھر متاثر ہوئے تھے۔ستمبر میں سیلاب آیا۔پانی اس قدر تھا کہ دو منزلہ مکان تک پانی میں ڈوب گئے تھے۔کہتے ہیں جب میں دورے پر جماعت سرینگر پہنچا تو پریشان تھا کہ اب سرینگر جماعت کے چندوں کی سو فیصد وصولی نہیں ہو سکے گی کیونکہ لوگ اپنے مکانوں کی چھتوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ان کے پورے گھروں میں کیچڑ وغیرہ بھر گیا تھا۔اور سارے مکان بُری حالت میں تھے۔انسپکٹر صاحب کہتے ہیں جب کسی بھی گھر جاتا تو یہ کہنے کی ہمت نہیں پاتا تھا کہ چندوں کی وصولی کے