خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 358
خطبات مسرور جلد 13 358 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء میسیڈونیا کے وفد کے ایک مہمان دراگان (Dragan) صاحب تھے۔کہتے ہیں میرا مسلمانوں سے پہلی مرتبہ اس طرح اتنا قریبی تعارف ہوا ہے اور ایسی نقار پرسنی ہیں جو اسلامی تعلیم کے بارے میں تھیں۔یہاں مسلمانوں نے ہمارا استقبال ایسے کیا جیسے وہ ہمیشہ سے ہمیں جانتے ہوں۔بوسنیا کے ایک صاحب کہتے ہیں۔پہلے ان کا جماعت کے ساتھ اتنا مضبوط تعلق نہیں تھا لیکن امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کے بعد ان میں ایک غیر معمولی تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور جماعت اور خصوصاً خلیفہ اسیح کے لئے ان کے دل میں احترام بہت زیادہ ہو گیا ہے۔سویڈن سے ایک رشین فیملی آئی تھی۔ان کے ایک اور دوست آئی تو رے صاحب تھے۔اپنی فیملی کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئے۔انہوں نے 2013ء میں احمدیت قبول کی تھی مگر مجھ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔مجھ سے ملاقات کے بعد بڑے جذباتی تھے اور بڑے پر جوش تھے اور بار باراس بات کا اظہار کرتے رہے کہ میرا خیال نہیں تھا کہ مصروفیت کی وجہ سے ملاقات ہوگی لیکن موقع پیدا ہو گیا۔مربی صاحب نے لکھا کہ آتے ہوئے تو ہر دو گھنٹے بعد رکنے کا کہتے تھے تا کہ پھر کے اپنی ٹانگ تھوڑی سی strech کر کے درست کر سکیں لیکن واپسی پر سترہ گھنٹے کا سفر انہوں نے بغیر ڑ کے کیا۔اور جب ان سے گھر پہنچ کے پوچھا کہ اس دفعہ آپ رستے میں رکے نہیں۔کہنے لگے کہ جلسے کی برکات ہیں۔مجھے تو احساس ہی نہیں رہا کہ میری ٹانگ میں کوئی تکلیف تھی۔پھر کروشین وفد تھا۔اس کی ایک رکن یا سیپا (Josipa) صاحبہ نے کہا کہ جلسہ سالانہ پر آنے سے قبل میں نے جماعت کے موجودہ سربراہ کی کتاب World crisis and the pathway to peace کا مطالعہ کیا۔اس طرح سال 2014 ء اور 15ء میں امن کے بارے میں سمپوزیم میں خلیفہ امسیح کے دونوں خطابات کا بھی مطالعہ کیا۔میرے ذہن میں یہ تاثر تھا کہ جماعت کے سر براہ بعض معاملات میں سخت موقف رکھتے ہوتے ہیں اور سخت مزاج ہوں گے تاہم یہ تاثر ملاقات کے بعد زائل ہو گیا اور اس کے بعد انہوں نے مزید تحقیق جماعت کے بارے میں کرنی شروع کی۔ہنگری کے ایک دوست مے زے ای (Mezei) صاحب جلسے میں شامل ہوئے۔پولیس کے محکمے میں مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔اب ہنگری کے ایک انقلابی وزیر اعظم کے نام پر ایک فنڈ قائم ہوا ہے اس کے ذریعے یہ انسانیت کی خدمت کے کام کرتے ہیں۔یہ مذہباً عیسائی ہیں۔وہ اپنے جذبات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ چھوٹا بڑا ہر کوئی ایک دوسرے کو سلام