خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد 13 359 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء کر رہا تھا۔پیار سے مل رہا تھا۔مجھے ان لوگوں کی زبان تو سمجھ نہیں آئی لیکن ان کے چہرے کے تأثرات سے لگ رہا تھا کہ یہ لوگ پیار بانٹ رہے ہیں۔میں نے دنیا دیکھی ہے اور مشرق سے لے کر مغرب تک اس قسم کا نظارہ نہیں دیکھا۔مجھ پر اس جلسے کا عجیب اثر ہوا ہے۔یقیناً میں اپنے دوستوں کو ، جاننے والوں کو بھی جماعت احمدیہ کے جلسے کے متعلق بتاؤں گا۔پھر ہنگری کے ہی ایک گابور پیٹر (Gabor Peter ) صاحب ہیں۔یہ مذہبا یہودی ہیں۔ہمارے جو مبلغ ہیں انہوں نے بتایا کہ جلسے میں شامل ہونے سے پہلے جب ان سے اسلام اور یہودیت کے حوالے سے بات ہوتی تھی تو بسا اوقات کج بحثی بھی کرتے لیکن جب ان کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو کہنے لگے کہ آپ لوگ Love for all, hatred for none پر صرف ایمان نہیں لاتے بلکہ میں نے خود دیکھ لیا ہے کہ آپ لوگ اس ماٹو پر عمل کرتے ہیں اور اب انہوں نے کہا ہے کہ جماعت کو ہنگری میں کسی بھی قسم کے معاملے میں کوئی بھی ضرورت ہو تو وہ تعاون کریں گے۔پس یہ تبدیلیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے۔ہنگری سے آنے والے وفد میں ایک دوست اسماعیل صاحب شامل تھے۔ان کا تعلق ویسے برکینا فاسو سے ہے لیکن ہنگری میں مقیم ہیں۔ان کی اہلیہ ہنگیرین ہیں۔وہاں کچھ عرصہ پہلے بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔ان کی دو بچیاں ہیں ان کے ساتھ آنا چاہتے تھے۔لیکن اہلیہ نے کہا کہ بچیوں کو علیحدہ میں نہیں جانے دوں گی۔پتا نہیں کن مسلمانوں میں تم جا ر ہے ہو۔اس لئے بچیوں کی نانی ساتھ آئی تھی اور یہاں آ کے ان پر تو جو اثر ہونا تھا ہو ا۔پہلے تو جلسے کی مختلف کا رروائی دیکھی۔One comunity, one leader جو ویڈیو ہے وہ بھی دکھائی گئی۔اس کا بھی ان پر خاص اثر ہوا اور جلسہ گاہ پہنچنے سے پہلے کہنے لگیں کہ میں سر ڈھانکنے کے لئے کچھ نہیں لائی۔بہر حال پھر ساتھ والی عورتوں سے دو پٹہ مانگا، سکارف مانگا اور سر ڈھانکا اور ملاقات کے دوران بھی بڑی جذباتی تھیں کہ یہ بالکل اور دنیا ہے جو میں دیکھ رہی ہوں۔ہمارے جو تحفظات تھے بالکل دُور ہو گئے ہیں۔پھر جرمنی میں ایک دوست سلیمان صاحب ہیں۔سینٹرل ریپبلک آف افریقہ سے ان کا تعلق ہے۔کہتے ہیں مجھے جلسے کی دعوت ملی تو میرا خیال تھا کہ پچاس یا سولوگوں کی تبلیغی نشست ہوگی جس میں تھوڑی بہت باتیں ہوں گی اور کھانا پینا ہو گا۔پھر سارے لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔لیکن یہاں آنے کے بعد تو میرا نظریہ یکسر بدل گیا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں افراد جمع تھے۔میں تو جلسے کے