خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 357
خطبات مسرور جلد 13 357 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء وی چینلز کے دو صحافی بھی تھے اور مختلف مناظر بھی فلماتے رہے۔انہوں نے مختلف لوگوں کے انٹرویو بھی لئے اور کہتے ہیں کہ وہاں جا کے ہم ایک ٹی وی پروگرام بنائیں گے اور اس میں یہ دکھا ئیں گے۔میسیڈونیا سے آنے والے ایک مہمان نے کہا کہ جلسے میں شامل ہو کر اس کی یادوں کے ساتھ واپس جارہا ہوں۔جلسے کے انتظامات کا کام ایسا ہے کہ کوئی بھی ادارہ مشکل سے سرانجام دے سکتا ہے بلکہ میں کہوں گا کہ ایک بڑا ملک بھی اس معیار کا پروگرام منعقد نہیں کرسکتا۔پھر میسیڈونیا کے ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں زندگی میں پہلی دفعہ اتنے اچھے لوگوں سے ملا ہوں۔مجھے سب سے زیادہ متاثر اسلام کے پیغام نے کیا ہے جو مجھے اب یہاں سے ملا۔آپ کے پاس دیواروں پر جو پیغام لکھا ہوا ہے وہ صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ حقیقت میں آپ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں۔ان باتوں نے میرے دل پر بڑا گہرا اثر کیا ہے۔پھر میسیڈونیا سے ہی ایک مہمان ٹونی (Toni) صاحب ہیں۔کہتے ہیں بطور صحافی میں دنیا کے مختلف پروگراموں میں شامل ہوا ہوں لیکن یہ سب سے اچھا پروگرام تھا۔سب کچھ اچھے طریقے سے آرگنائز کیا گیا تھا۔یہاں ڈسپلن تھا۔مجھے اس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا کہ سب لوگ خدا کے نزد یک برابر ہیں۔سب افراد میں برداشت ہے۔مذہب، قوم، زبان کی وجہ سے آپس میں اختلافات نہیں ہیں۔ایک غیر مسلم کی حیثیت سے یہ بات میرے لئے بہت اہم ہے۔پھر میسیڈونیا سے آنے والے ایک مہمان کہتے ہیں کہ جلسے پر پہلی بار شامل ہو ا ہوں اور میرے لئے سب کچھ نیا تھا۔میں نہیں جانتا تھا کہ اسلام میں ایسی جماعت بھی موجود ہے۔اس جلسے میں شامل ہونے کے بعد اب اپنے آپ کو علمی طور پر بہتر محسوس کر رہا ہوں۔مجھے احمدیت کے بارے میں زیادہ علم حاصل ہوا ہے اور تجربہ بھی۔مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں اس جماعت کا ہی حصہ ہوں۔اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا اکٹھا ہونا اور سب کی ضروریات کا خیال رکھنا یہ بہت بڑا کام ہے۔پھر ان کی مجھ سے ملاقات بھی ہوئی۔اس کے بعد یہ کہنے لگے کہ جو کچھ میں نے آپ سے سنا ہے اس کے بارے میں غور کروں گا کہ ہمارے اور احمدیوں کے درمیان کیا فرق ہے۔ان کا سوال یہی تھا کہ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ کہتے ہیں جو کچھ میں نے آپ سے سنا مجھے بہت اچھا لگا ہے۔میرا پیغام جماعت کو یہ ہے کہ میرے ملک اور دیگر ممالک جہاں بھی جماعت قائم نہیں ہے وہاں احمدیت کے مشنری بھجوائے جائیں جو وہاں لوگوں کو بتائیں کہ احمدیت کیا ہے۔اور یہ مطالبے اکا دُکا نہیں ، بہت ساری جگہوں سے آتے ہیں۔