خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 333

خطبات مسرور جلد 13 333 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015 ء اب آپ کہتے ہیں کہ ہمیں خلافت نہیں چاہئے اور ہم خلافت سے آزاد ہو گئے۔حضرت مصلح موعود نے انہیں کہا کہ چھ سال تک آپ نے بیعت کئے رکھی اور جو چیز چھ سال تک جائز تھی وہ آئندہ بھی حرام نہیں ہو سکتی اور وہ چیز جسے اللہ تعالیٰ کا حکم ہو وہ تو بالکل بھی نہیں ہو سکتی۔آپ کی اور ہماری پوزیشن میں یہ ایک فرق ہے کہ آپ اگر اپنی بات کو چھوڑ دیں تو آپ کو وہی چیز اختیار کرنی پڑے گی جسے آپ نے اب تک اختیار کئے رکھا۔یعنی خلیفہ امسیح الاول کی بیعت کئے رکھی۔لیکن ہم اگر اپنی بات چھوڑیں تو وہ چھوڑنی پڑے گی جسے چھوڑ نا ہمارے عقیدہ اور مذہب کے خلاف ہے اور جس کے خلاف ہم نے کبھی عمل نہیں کیا۔پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ آپ وہ راہ اختیار کر لیں جو آپ نے آج تک اختیار کئے رکھی تھی اور ہمیں ہمارے مذہب اور اصول کے خلاف مجبور نہ کریں۔باقی رہا یہ سوال کہ جماعت کی ترقی اور اسلام کے قیام کے لئے کون مفید ہوسکتا ہے سو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے حضرت مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ جس شخص پر آپ متفق ہوں گے اسے ہم خلیفہ مان لیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت یہ چاہتی تھی کہ نظام خلافت قائم ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا واضح ارشاد جماعت کے سامنے تھا۔جب یہ میٹنگ زیادہ لمبی ہوگئی۔مولوی محمد علی صاحب ضد کرتے چلے گئے تو لوگوں نے دروازے پیٹنے شروع کر دیئے اور شور مچایا کہ جلدی فیصلہ کریں اور ہماری بیعت لیں۔بہر حال حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو میں نے کہا کہ آپ کے خدشات میں نے دُور کر دیئے ہیں اس لئے آپ کے سامنے اب یہ سوال ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو۔یہ نہیں کہ خلیفہ ہونا نہیں چاہئے۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ میں جانتا ہوں اس لئے آپ زور دے رہے ہیں کہ آپ کو پتا ہے کہ خلیفہ کون ہو گا۔حضرت مصلح موعود نے کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو نہیں پتا کہ کون ہو گا۔خلیفہ ثانی نے فرمایا کہ میں اس کی بیعت کرلوں گا جسے آپ یعنی مولوی محمد علی صاحب چنیں گے جب میں آپ کے منتخب کردہ کی بیعت کرلوں گا تو پھر کیونکہ خلافت کے مؤید یعنی خلافت کی تائید کرنے والے میری بات مانتے ہیں مخالفت کا خدشہ پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔لیکن مولوی صاحب نے نہ ماننا تھانہ مانے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ آپ جو بدظنیاں کرتے رہتے ہیں میرے پے۔میں اپنا دل چیر کر آپ کو کس طرح دکھاؤں۔میں تو جو قربانی میرے امکان میں ہے کرنے کو تیار ہوں اور پھر تھوڑی دیر بعد جب یہ دروازہ کھولا گیا باہر نکلے تو مولوی محمد احسن امروہی صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمدکا نام پیش کیا اور جماعت نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ بیعت لیں۔آپ نے