خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد 13 334 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015 ء بڑا کہا کہ مجھے تو بیعت کے الفاظ بھی یاد نہیں۔مولوی سرور شاہ صاحب نے غالباً کہا کہ میں پڑھتا جاتا ہوں اور یوں اس دوسری قدرت کے قائم ہونے میں یہ جو فتنہ پردازوں نے فتنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو پورا کرتے ہوئے ناکام و نامراد کر دیا اور خلافت علی منہاج نبوت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد دوسری مرتبہ پھر قائم فرما دی۔اور جو خلافت سے دور ہٹے ہوئے تھے وہ بڑے دینی عالم بھی تھے، دنیاوی عالم بھی تھے ، پڑھے لکھے بھی تھے، تجربہ کار بھی تھے، صاحب ثروت و حیثیت بھی تھے، انجمن کے تمام خزانے کو بھی اپنے قبضے میں کئے ہوئے تھے لیکن وہ لوگ ناکام و نامراد ہی ہوتے گئے۔مولوی صاحب خلافت ثانیہ کے انتخاب کے بعد نہ صرف وہاں سے، قادیان سے چلے گئے بلکہ ان غیر مبائعین نے نظام خلافت کو ختم کرنے کے لئے بعد میں بھی بڑی فتنہ پردازیاں جاری رکھیں۔لیکن ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ خلافت کے نظام کو جاری رکھنے کا تھا۔جب یہ لوگ ہر طرح سے ناکام ہو کر قادیان چھوڑ کر جارہے تھے اور خزانہ بھی بالکل خالی کر گئے تھے۔جاتے ہوئے تعلیم الاسلام سکول کی عمارت کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہے تھے کہ دس سال نہیں گزریں گے کہ ان عمارتوں پر آریوں اور عیسائیوں کا قبضہ ہوگا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 72 تا 75) خلافت کی برکت اور ترقیات لیکن دیکھیں اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے وعدے پورے فرماتا ہے۔کس طرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرتا ہے۔کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دی گئی خوشخبری کو نہ صرف پورا فرما تا ہے بلکہ آج تک ہر روز ایک نئی شان سے پورا فرما تا چلا جا رہا ہے۔وہ دس سال کی بات کرتے تھے کہ اس سے پہلے ہی آریہ اور عیسائی یہاں قبضہ کر لیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے کاموں کی اپنی شان ہے۔وہ دس سال بھی گزر گئے اور اس کے بعد بھی کئی دہائیاں گزرگئیں اور آج اس بات کو 101 سال ہو گئے ہیں لیکن نہ صرف انتہائی نامساعد حالات کے باوجود قادیان ترقی کر رہا ہے جس میں پارٹیشن کا واقعہ بھی شامل ہے جب جماعت کو وہاں سے نکلنا پڑا اور صرف چند سو درویشوں کو وہاں درویشی کی زندگی گزارنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔اور اب تو قادیان میں نئی سے نئی جدید عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں۔ایک سکول پر قبضہ کرنے کی بات کرتے تھے۔کئی کروڑ روپے کی لاگت سے نئے سکول بن رہے ہیں۔تبلیغ کے کام بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں بہت وسعت اختیار کر چکے ہیں اور پھر قادیان ہی نہیں دنیا کے بہت سے ممالک