خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 332 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 332

خطبات مسرور جلد 13 332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 مئی 2015 ء ہے۔پس نظام خلافت کا دینی ترقی کے ساتھ ایک اہم تعلق ہے اور شریعت اسلامیہ کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔دینی ترقی بغیر خلافت کے ہو ہی نہیں سکتی۔جماعت کی وحدت خلافت کے بغیر قائم رہ ہی نہیں سکتی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم میں سے ہر ایک جو خلافت سے وابستہ ہے اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ خلافت کا جماعت میں جاری رہنا ایمان کا حصہ ہے اور اس بات کو وہ لوگ بھی جانتے تھے جو جماعت میں حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر فتنہ اٹھانے والوں کی باتوں کو رد کر کے خلافت سے وابستہ رہنا چاہتے تھے۔ان کو پتا تھا کہ ہمارا ایمان قائم رہ ہی نہیں سکتا اگر ہم میں نظام خلافت نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ان لوگوں کے ایمان میں پختگی کی وجہ سے آج ہم میں سے بہت سے جو ان بزرگوں کی نسلوں میں سے ہیں نظام خلافت کے فیض سے فیضیاب ہور ہے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ کوشش اور قربانی حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی پر الزام لگانے والوں نے بڑے بڑے الزام لگائے لیکن جو آپ کے دل کی کیفیت نظام خلافت کو بچانے کے لئے تھی اس کی ایک جھلک میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے الفاظ میں ہی آپ کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے اور فتنوں سے بچنے کے لئے ہمیں تاریخ پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔اسی طرح ایمان میں مضبوطی کے لیئے بھی یہ ضروری ہے۔یہ مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ جہاں حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے وفات پائی تھی یعنی اس گھر میں جس گھر میں اس کے ایک کمرے میں میں نے مولوی محمد علی صاحب کو بلا کر کہا کہ خلافت کے متعلق کوئی جھگڑا پیش نہ کریں کہ ہونی چاہئے یا نہ ہونی چاہئے اور اپنے خیالات کو صرف اس حد تک محدود رکھیں کہ ایسا خلیفہ منتخب ہو جس کے ہاتھ میں جماعت کے مفاد محفوظ ہوں اور جو اسلام کی ترقی کی کوشش کر سکے۔چونکہ صلح ایسے ہی امور میں ہوسکتی ہے جن میں قربانی ممکن ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ میں نے مولوی صاحب سے کہا جہاں تک ذاتیات کا سوال ہے میں اپنے جذبات کو آپ کی خاطر قربان کر سکتا ہوں لیکن اگر اصول کا سوال آیا تو مجبوری ہوگی کیونکہ اصول کا ترک کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ہمارے اور آپ کے درمیان یہی فرق ہے کہ ہم خلافت کو ایک مذہبی مسئلہ سمجھتے ہیں اور خلافت کے وجود کو ضروری قرار دیتے ہیں۔مگر آپ خلافت کے وجود کونا جائز قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ابھی ابھی ایک خلیفہ کی بیعت سے آپ کو آزادی ملی ہے۔یعنی مراد تھی کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول کی بیعت تو آپ لوگوں نے کی تھی اور اب ان کی وفات ہوئی ہے۔آپ کو اس سے آزادی ملی ہے یعنی کہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے بعد