خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 316 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 316

خطبات مسرور جلد 13 316 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء روپیہ کھانے والے ہوتے تو امتیازی نشان کیوں قائم فرماتا اور بغیر وصیت کے ہمیں مقبرہ بہشتی میں داخل ہونے کی کیوں اجازت دیتا۔پس جو ہم پر حملہ کرتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ کرتا ہے وہ خدا پر حملہ کرتا ہے۔مجھے خوب یا د ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ باغ میں گئے اور فرمایا مجھے یہاں چاندی کی بنی ہوئی قبریں دکھلائی گئی ہیں اور ایک فرشتہ مجھے کہتا ہے کہ یہ تیری اور تیرے اہل وعیال کی قبریں ہیں اور اسی وجہ سے وہ قطعہ آپ کے خاندان کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔گو یہ خواب اس طرح چھپی ہوئی نہیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ خواب اس طرح چھپی ہوئی نہیں لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ نے اسی طرح ذکر فر ما یا۔پس خدا نے ہماری قبریں بھی چاندی کی کر کے دکھا دیں اور لوگوں کو بتا دیا کہ تم تو کہتے ہو یہ اپنی زندگی میں لوگوں کا روپیہ کھاتے ہیں اور ہم تو ان کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کو ان کے ذریعہ سے فیض پہنچا ئیں گے۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم فیض پہنچا ئیں گے۔پس اللہ تعالیٰ ہماری مٹی کو بھی چاندی بنا رہا ہے اور تم اعتراضات سے اپنی چاندی کو بھی مٹی بنا رہے ہو۔فرماتے ہیں کہ چونکہ منافق عام طور پر پوشیدہ باتیں کرنے کا عادی ہوتا ہے اس لئے میں نے کھلے طور پر ان باتوں پر روشنی ڈال دی ہے ورنہ مجھے اس بات سے سخت شرم آتی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے کچھ چندہ دوں اور پھر کہتا پھروں کہ میں نے اتنا چندہ دیا ہے۔مگر چونکہ آپ کے زمانے میں یہ ایک سوال اٹھایا گیا جیسا کہ میں نے کہا آپ کو سب سے زیادہ مخالفین اور منافقین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔گو اکا دُکا اب بھی سوال اٹھاتے رہتے ہیں لیکن اس زمانے میں بہت شدت تھی۔فرمایا کہ چونکہ ایک سوال اٹھایا گیا تھا اس لئے مجھے مجبور ابتانا پڑا کہ اگر اپنے تمام خاندان کا چندہ ملا لیا جائے تو اس رقم سے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں نے کھالی پانچ گنا زیادہ رقم ہم چندے میں دے چکے ہیں اور جور قم صرف میرے اہل و عیال کی طرف سے خزانے میں داخل ہوئی ہے وہ بھی اس سے زیادہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی عظمند یہ تسلیم نہیں کرے گا کہ ہم نے پانچ گنا زیادہ رقم اس لئے خرچ کی تا اس کا پانچواں حصہ کسی طرح کھا جائیں۔پس ان لوگوں کو جو یہ اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ کا خوف کرنا چاہئے اور اس وقت سے پیشتر اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے جبکہ ان کا ایمان اڑ جائے اور وہ دہریہ اور مرتد ہوکرمریں۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 18 صفحہ 189-188) بہر حال جیسا کہ میں نے کہا ایسے لوگ ہر زمانے میں ہوتے ہیں لیکن آپ کو بہت زیادہ سامنا