خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد 13 315 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء معاملہ ہے بہت نازک چیز ہے۔کیوں نازک اور حساس ہے؟ فرمایا اس لئے کہ ) اس نے بہت سی قوموں 66 کو تباہ کر دیا کہ انہوں نے انبیاء اور ان کے اہل بیت پر بدظنیاں کیں۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 266 265) اور پھر جیسا کہ پہلے فرمایا پھر خدا تعالٰی پر بھی بدظنی شروع ہو جاتی ہے۔ایسے ہی بدظنی کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض واقعات بیان فرما رہے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ لوگوں نے انبیاء اور اہل بیت پر بدظنیاں کیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے زمانے میں اس کا سب سے بڑا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔چنانچہ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : مجھے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اور اسی نے اپنی تائید اور نصرت کو ہمیشہ میرے شامل حال رکھا ہے اور سوائے ایک نابینا اور مادرزاد اندھے کے اور کوئی نہیں جو اس بات سے انکار کر سکے کہ خدا نے ہمیشہ آسمان سے میری مدد کے لئے فرشتے نازل کئے۔اعتراض کرنے والوں کو فرما رہے ہیں کہ پس تم اب بھی اعتراض کر کے دیکھ لو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان اعتراضات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اس قسم کے اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی کئے گئے۔چنانچہ ایک دفعہ جب کسی نے ایسا ہی اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا ( یعنی چندہ دینے کے بارے میں ) کہ تم پر حرام ہے کہ آئندہ سلسلے کے لئے ایک کہہ بھی بھیجو پھر دیکھو کہ خدا کے سلسلے کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔فرمایا: میں بھی ان لوگوں کو اسی طریق پر کہتا ہوں کہ تم پر حرام ہے کہ آئندہ ایک پیسہ بھی سلسلہ کی مدد کے لئے دو۔( جو اعتراض کرتے ہیں کہ غلط رنگ میں پیسہ خرچ کیا جاتا ہے اور خلیفہ وقت اس کو غلط خرچ کرتا ہے۔ان کو فر مایا کہ ) گومیری عادت نہیں کہ میں سخت لفظ استعمال کروں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر تم میں ذرہ بھی شرافت باقی ہو تو اس کے بعد ایک دمڑی تک سلسلہ کے لئے نہ دو اور پھر دیکھوسلسلہ کا کام چلتا ہے یا نہیں چلتا۔اللہ تعالیٰ غیب سے میری نصرت کا سامان پیدا فرمائے گا اور غیب سے ایسے لوگوں کو الہام کرے گا جو مخلص ہوں گے اور جو سلسلہ کے لئے اپنے اموال قربان کرنا باعث فخر سمجھیں گے۔آپ فرماتے ہیں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے اسی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے۔( یعنی اپنی اولاد کے بارے میں جو آپ کے پانچ بچے ہیں حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے ) کہ مقبرے میں دفن ہونے کے بارے میں میرے اہل وعیال کی نسبت خدا تعالیٰ نے استثناء رکھا ہے۔(حضرت ام المومنین اور آپ کے پانچ بچے ) اور وہ وصیت کے بغیر بہشتی مقبرے میں داخل ہوں گے اور جو شخص اس پر اعتراض کرنے گاوہ منافق ہوگا۔فرماتے ہیں اگر ہم لوگوں کا