خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 13 317 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء کرنا پڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہوا۔اس بارے میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو ہم سے علیحدہ ہو گئے ہیں ان میں اپنے بھائیوں پر بدظنی کرنے کی عادت تھی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ حضرت صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی نسبت کہہ گزرے کہ آپ جماعت کا روپیہ اپنے ذاتی مصارف پر خرچ کر لیتے ہیں۔حضرت صاحب کو آخری وقت میں یہ بات معلوم ہو گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے آخری زندگی کے دنوں میں یہ بات معلوم ہوگئی تھی اور آپ نے مجھے فرمایا ( یعنی حضرت مصلح موعود کو) کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ لنگر کے لئے جو روپیہ آتا ہے اسے میں اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کر لیتا ہوں مگر ان کو معلوم نہیں کہ لوگ جو میرے لئے نذروں کا روپیہ لاتے ہیں (یعنی اس بات کے لئے لاتے ہیں کہ آپ نے ذاتی طور پر خرچ کرنی ہے ) میں تو اس میں سے بھی لنگر کے لئے خرچ کرتا ہوں۔چنانچہ حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں میں آپ کے منی آرڈر لا یا کرتا تھا اور مجھے خوب معلوم ہے کہ لنگر کا روپیہ بہت تھوڑا آیا کرتا تھا اور اتنا تھوڑا آیا کرتا تھا کہ اس سے خرچ نہ چل سکتا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ اگر میں لنگر کا انتظام ان لوگوں کے سپر د کر دوں ( یعنی جو اعتراض کرنے والے ہیں یا اپنے آپ کو انجمن کے سرکردہ سمجھتے ہیں) تو یہ کبھی اس کے اخراجات کو پورا نہ کرسکیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک بدظنی کا خمیازہ بھگتا جارہا ہے کہ لنگر کا فنڈ ہمیشہ مقروض رہتا ہے۔(ماخوذ از الحکم جوبلی نمبر 28 دسمبر 1939 صفحہ 13 جلد 42 نمبر 31 تا40) ایک لمبا عرصہ اس بدظنی کا خمیازہ وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ ہم بڑا اچھا انتظام چلا سکتے ہیں وہ بھگتتے رہے اور انجمن بھی مقروض رہی۔لیکن کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں بھی جماعت کے ساتھ تھیں۔اب جو جماعت کو کشائش ہے یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا نتیجہ ہے۔یہ کسی کی ذاتی کوشش نہیں ہے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کالنگر بھی دنیا کے ہر ملک میں چل رہا ہے۔پھر ایک واقعہ جس کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے۔انبیاء کی زندگی اور ان کے بعد کی زندگی، انبیاء کے زمانے میں جماعت کی حالت اور ان کے بعد جماعت کی حالت سے جس کا تعلق ہے وہ بھی بیان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے نبی دنیا میں اس لئے بھیجتا ہے کہ دنیا میں جو روحانی انحطاط شروع ہو چکا ہے اس کی اصلاح کرے۔جو روحانی طور پر گراوٹ لوگوں میں آگئی ہے اس کی اصلاح کرے۔انبیاء اس لئے