خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد 13 314 21 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز السماد العالي العزيز فرمودہ مورخہ 22 رمئی 2015 ء بمطابق 22 ہجرت 1394 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِ (الحجرات : 13) إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ اثْم کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہوظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو، بچا کرو۔یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔بدظنی کے بھیانک نتائج حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ اس بارے میں فرمایا کہ : ”فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنون فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے۔اگر نیک ظن کرے تو پھر کچھ دینے کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے“۔فرمایا: ”بدظنی بہت بری چیز ہے۔انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر چڑھتے چڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 107 ) ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔پھر ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ: ”دوسرے کے باطن میں ہم تصرف نہیں کر سکتے ( یعنی کسی کے دل تک ہماری پہنچ نہیں ہو سکتی ) اور اس طرح کا تصرف کرنا گناہ ہے۔انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور پھر آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے۔سوء ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا۔( بدظنی میں جلدی کرنا اچھا نہیں ہوتا )۔تصرف فی العباد ایک نازک امر ہے۔(یعنی یہ خیال کرنا کہ ہماری لوگوں کے دلوں تک پہنچ ہے یہ بہت حساس