خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 313

خطبات مسرور جلد 13 313 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء آپ کو تکلیف زیادہ بڑھ گئی لیکن بہر حال انہوں نے اپنے فرائض نہیں چھوڑے۔بڑی غریب پرور تھیں اور غریبوں کی غیر معمولی مدد کیا کرتی تھیں اور اخفاء میں رکھتی تھیں۔خلافت سے اس قدر عقیدت کا تعلق تھا کہ کوئی بات آپ برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔1974ء میں جو حالات ہوئے اس کے بعد کچھ مہمان ان کے گھر آئے اور کھانے کی میز پر کسی نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران حضور کو یعنی خلیفہ ثالث کو اس طرح نہیں بلکہ اس طرح کہنا چاہئے تھا تو آپ نے اسی وقت انگلی کے اشارہ سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ بس اس سے آگے ایک لفظ نہیں سنوں گی۔فوراو ہیں بات ختم کر دی۔خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا خاص تعلق تھا۔یہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب کی ریٹائرمنٹ ہو گئی تو صرف پنشن پے گزارا تھا۔حالات ذرا تنگ تھے تو ایک دن والدہ صاحبہ نے ( یعنی امتۃ الرفیق صاحبہ نے میری موجودگی میں والد صاحب سے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وَاللهُ خَيْرُ الرازقین کی بشارت ہوئی ہے۔اور اس کے بعد ان کے میاں کو ورلڈ بینک نے ایڈوائزر کے طور پر رکھا اور کنسلٹنسی (consultancy) کی فیس بھی آنے لگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آمد بڑھ گئی۔دنیا سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ان کی بیٹی فرحانہ پاشا نے لکھا ہے کہ میری امی کا جو سامان لپیٹا ہے تو سب کچھ لپیٹنے میں پندرہ منٹ لگے۔ان کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ ان کا سارا سسرال غیر احمدی تھا۔حضرت مصلح موعود نے ان کو نصیحت کی تھی کہ غیر احمدی رشتہ داروں کا ہمیشہ خیال رکھنا اور کہتی ہیں کہ امی نے ساری زندگی اس نصیحت پر خوب عمل کیا اور ابا کے ساتھ غیر احمدی رشتہ دار جو صرف رشتہ دار ہی نہیں تھے بلکہ مختلف انداز میں مخالفت کا بھی اظہار کرتے تھے ان کی مخالفت کے باوجود ساری زندگی ان سے حسن سلوک رکھا اور آخر وفات کے وقت ان میں سے بعضوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان جیسا ہمارا ہمدرد اور خیر خواہ کوئی نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی نیکیوں پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹرنیشنل مورخہ 05 جون 2015 ء تا 11 جون 2015 ، جلد 22 شماره 23 صفحہ 05 09)