خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 263

خطبات مسرور جلد 13 263 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء کے تابع کر دیا۔ان کے خیال میں دین کوئی چیز نہیں ہے دنیا ہی ہر چیز ہے۔بیشک یہ لوگ بھی بھٹکے ہوئے ہیں لیکن جو مقصد یہ سمجھتے تھے اسے تو حاصل کر لیا چاہے غلط طریق ہی ہے۔انہوں نے دنیا تو حاصل کرلی لیکن مسلمانوں کو تو نہ دین ملا، نہ دنیا ملی۔بہر حال ان دونوں طرح کے لوگوں کی اصلاح کے لئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے حالات میں ہی اپنے ماموروں کو بھیجتا ہے جو صحیح رہنمائی کر کے مذہب کو مذہب کی جگہ اور اخلاق کو اخلاق کی جگہ اور دنیا کو دنیا کی جگہ رکھتے ہیں۔بظاہر وہ روحانی پیغام لے کر آتے ہیں مگر ان تینوں چیزوں کا گہرا تعلق ہے اور روحانیت میں کمال سے اخلاق کا درست ہونا لازمی ہے اور اخلاق کی نگہداشت سے مادیت کی درستی بھی لازمی ہے۔مگر یہ نہیں ہو سکتا یا یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کی دنیا درست ہو اس کو دنیا میں سب کچھل جائے۔جو وہاں ترقی کر رہا ہو اس کے اخلاق بھی درست ہوں۔اور جس کے اخلاق درست ہوں اس کا مذہب بھی درست ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء انسان کو اپنی طرف لانے کا ہے۔یہی اس کا مقصد پیدائش ہے۔پس اس نے اخلاق کی درستی اور مادی ترقی کو مذہب کے تابع کر دیا ہے تا کہ جو اس کی طرف توجہ کرے اسے باقی سب کچھ آپ ہی آپ مل جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کامل مومن کو سب ترقیات حاصل ہوتی ہیں لیکن جو صرف دنیا دار ہوں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدنيا ( الكهف : 105 )۔ان کی سب کوششیں دنیا میں ہی غائب ہو جاتی ہیں۔حضرت مصلح موعود اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گویا روحانیت کے قبول کرنے والے کے لئے یعنی اوپر سے نیچے آنے والے کے لئے سیڑھی موجود ہے مگر نیچے سے اوپر جانے والے کے لئے سیڑھی موجود نہیں ہے۔پس معلوم ہوا کہ دنیا میں ان تینوں امور کے حصول کے لئے الگ الگ ذرائع ہیں لیکن ایک ذریعہ مشترک بھی ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنا ہے۔اخلاق کے لئے کوشش کرنے سے اخلاق مل جائیں گے۔مادیات کے لئے کوشش کرنے سے مادیات حاصل ہو جائیں گی ، دنیاوی ترقی حاصل ہو جائے گی۔مگر ہر ایک کوشش کا نتیجہ اس دائرے کے اندر محدود رہے گا، اس سے باہر نہیں نکلے گا۔مگر روحانیت کی درستی کرنے والوں کو ساری چیزیں مل جائیں گی۔صحابہ رضوان اللہ علیہم بیعت کرتے وقت اس بات کی بیعت نہیں کرتے تھے کہ گلیاں چوڑی رکھیں گے یا صفائی کریں گے یا دوسری مادی چیزوں کا خیال رکھیں گے بلکہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھتے تھے۔اس سے اخلاق بھی درست ہوتے