خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد 13 264 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء تھے اور اخلاق کی درستی سے یقیناً دنیا درست ہوتی تھی۔مسلمان کے اس زمانے میں سچ کے معیار ایک نمونہ تھے۔تجارت میں دیانتداری کی وجہ سے مسلمانوں کے سپر د دنیا والے بے دھڑک اپنی تجارتیں کر دیا کرتے تھے۔رعایا سے انصاف دیکھ کر لوگ چاہتے تھے کہ مسلمان ہمارے حکمران ہوں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک موقع پر شام سے مسلمانوں کو نکلنا پڑا کیونکہ اس وقت رومی فوجوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے مقابلہ مشکل تھا لیکن اس وقت شامی لوگ جور عا یا تھی وہ روتے تھے اور اصرار کرتے تھے کہ آپ لوگ یہاں سے نہ جائیں ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔ہم آپ کے ساتھ دفاع کریں گے۔حالانکہ شامی لوگ بھی عیسائی تھی اور رومی بھی عیسائی تھے۔مگر یہ اعلیٰ اخلاق اور حکومت کا حسن انتظام تھا جس نے شامی عیسائیوں کو عیسائی حکومت کے مقابلے پر مسلمانوں کی مدد پر آمادہ کر دیا۔پس گو با دشاہت دنیوی چیز ہے لیکن مسلمانوں کی بادشاہت دنیوی نہیں تھی۔یہ بادشاہت انہیں مذہب کے طفیل ملی تھی اس لئے مذہب کے پیچھے چلتی تھی اور اسی وجہ سے اس میں ایسی خوبیاں تھیں کہ مذہبی اختلاف کے باوجود رعایا چاہتی تھی کہ مسلمانوں کی بادشاہت قائم رہے ، ان کی حکومت قائم رہے۔گو مسلمانوں کو بادشاہت لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے طفیل ملی تھی لیکن صرف زبانی دعوی نہیں تھا بلکہ حقیقی ایمان کے طفیل ملی تھی کیونکہ زبانی دعوے والا تو دنیا سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے مگر جس کو سچا مذہب مل جائے اس کے اخلاق بھی درست ہو جاتے ہیں اور دنیا بھی۔کاش کہ آج کے مسلمان حکمران اس نکتے کو سمجھیں اور اپنی حکومتوں کو اس نہج پر چلا ئیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک تاجر کی مثال بیان فرمایا کرتے تھے کہ اس نے ایک بڑی رقم اپنے شہر کے قاضی کو امانت کے طور پر رکھوائی۔وہ سفر پر جا رہا تھا کہ سفر سے واپسی پر لے لوں گا۔جب واپس آیا اور اپنی رقم کی تھیلی مانگی تو قاضی صاحب نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے کوئی امانت نہیں رکھی اور نہ میں امانتیں رکھا کرتا ہوں۔کیسی تھیلی اور کیسی امانت؟ تاجر نے بہت سی نشانیاں بتا ئیں لیکن قاضی انکاری تھا کہ میں نے تو کہہ دیا کہ امانتیں رکھا ہی نہیں کرتا۔اس پر تاجر پریشان ہوا۔آخر اسے کسی نے بتایا کہ بادشاہ فلاں دن اپنا در بار لگاتا ہے اور ہر شخص کی پہنچ اس تک ہوتی ہے۔تم بھی جا کر اپنا معاملہ پیش کرو۔اس نے ایسا ہی کیا۔مگر کیونکہ اس کے پاس ثبوت کوئی نہیں تھا اس لئے بادشاہ نے کہا کہ بغیر ثبوت کے تو قاضی کو پکڑا نہیں جاسکتا۔ہاں بادشاہ نے خود ہی ایک صورت بتائی کہ فلاں دن میری سواری اور جلوس نکلے گا، شہر میں جائے گا تم اس دن قاضی کے قریب