خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 262
خطبات مسرور جلد 13 262 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 اپریل 2015ء پر حق ہے۔تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے ہمسائے کا بھی تجھ پر حق ہے۔اور ان کے حصول کے لئے ہمیں تین قسم کے ذرائع کا استعمال کرنا ضروری ہے۔پہلی بات تو دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا اور عبادت ہے۔دوسرے نفس پر قابو پانا ، جذبات کو دبانا، انسانی نفسیات پر غور کرنا۔تیسرے اپنے کام اور اپنے پیشے میں دیانت سے کام لینا اور دنیاوی اور سائنس کا علم حاصل کرناضروری ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 466-467) اگر ہم غور کریں تو نفس کے حق کے لئے دعا اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ضروری چیز ہے۔جذبات پر قابو پانا ہے یہ بھی ضروری چیز ہے۔جذبات ہی بعض دفعہ بے لگام ہو کر اپنے نفس کے حقوق سے بھی محروم کر دیتے ہیں یا ظلم کرنے پر آمادہ کر دیتے ہیں۔اپنے علم میں اضافہ کر کے، اپنے کام میں دیانت سے کام لے کر اپنی زندگی کی روحانی حالت اور اخلاقی حالت اور مالی حالت کو ہم سنوار سکتے ہیں۔اسی طرح اپنے اہل و عیال کے حق کی ادائیگی کے لئے بھی دعا ہے، جذبات پر کنٹرول ہے اور مادی ضروریات کا پورا کرنا ہے۔اسی طرح فرمایا کہ تمہارے ہمسائے کا بھی تم پر حق ہے۔یعنی معاشرے کے حق کی ادائیگی بھی اس وقت ہو گی جب ہم اس کے لئے دعا بھی کریں گے۔ان کے حق ادا کریں گے۔ان کی نفسیات کو سمجھیں گے اور اس کے مطابق جو دین کا پیغام پہنچانا ہے وہ پہنچا ئیں گے۔یہ بھی ان کا حق ہے کہ ان کو دین سے آگاہ کیا جائے اور پھر اپنے علم میں ترقی اور کام میں محنت سے مجموعی طور پر ملک کی ترقی میں بھی ہم حصہ دار بنیں گے۔یہ بھی ہمسائے کے حقوق میں اور معاشرے کے حقوق میں آ جاتا ہے۔اور جب معاشرے میں اس سوچ کے ساتھ ہر ایک کوشش کر رہا ہوگا تو وہ معاشرہ روحانی، اخلاقی اور مادی ہر طرح کی ترقی کا بہترین نمونہ ہوگا۔مسلمانوں کی بدحالی کی وجہ مسلمانوں کی بدحالی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خدا کو ، خدا کے مذہب کو مقدم کر کے ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جو ابھی میں نے بیان کی ہیں بلکہ اپنے نفسانی جذبات کا نام مذہب رکھ لیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے مذہب اتارا تھا اس کو مقدم نہیں کیا بلکہ اگر وہ مقدم رکھتے تو باقی باتوں کا بھی خیال رکھتے۔اپنے نفسانی جذبات کا نام مذہب رکھ کر اس پر عمل کر رہے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوسروں کو اسلام کی خوبیاں کیا بتائی تھیں خود اس خود ساختہ نفسانی مذہب کی پیروی کر کے مسلمان مسلمان کی گردن زدنی کر رہا ہے۔نہ ان کو دین ملا، نہ دنیا ملی۔سوائے اس کے کہ دنیا داروں کے سامنے اپنے ہر مسئلے کے لئے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔یہی آجکل ہمیں مسلمان دنیا میں نظر آتا ہے۔مغربی قوموں نے چاہے دین کو دنیا