خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد 13 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء پھر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے تھے کہ تین قسم کے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہیں۔فرماتے ہیں کہ ”میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بارہا سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو میرے دعوے کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں۔“ ( اس زمانے میں اسلام کی حالت کافی خراب تھی اور مسلمانوں کا شیرازہ بالکل بکھرا ہوا تھا اس لئے مختلف قسم کی طبائع پیدا ہو چکی تھیں اور ان مختلف طبائع نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو سنا اور جماعت کو بنتا دیکھا تو قبول کیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان لوگوں کی حالتوں کا ذکر فرما رہے ہیں کہ یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔یعنی پہلی قسم تو وہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ۔۔۔جو میرے دعوے کو سمجھ کر اور سوچ کر احمدی ہوئے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ میری بعثت کی کیا غرض ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جس رنگ میں پہلے انبیاء کی جماعتوں نے قربانیاں کی ہیں اسی رنگ میں ہمیں بھی قربانیاں کرنی چاہئیں۔مگر ایک اور جماعت ایسی ہے جو صرف حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وجہ سے ہمارے سلسلے میں داخل ہوئی ہے۔“ ( ان کو بعثت کی غرض نہیں پتا لیکن وہ صرف اس لئے داخل ہوئے کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔فرماتے ہیں کہ ) وہ ان کے استاد تھے۔انہیں معزز اور عقلمند سمجھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ جب مولوی صاحب احمدی ہو گئے ہیں تو آؤ ہم بھی احمدی ہو جائیں۔پس ان کا تعلق ہمارے سلسلہ سے مولوی صاحب کی وجہ سے ہے۔سلسلے کی غرض اور میری بعثت کی حکمت اور غایت کو انہوں نے نہیں سمجھا۔اس کے علاوہ ایک تیسری جماعت بعض نوجوانوں کی ہے جن کے دل میں گو مسلمانوں کا دردتھا مگر قومی طور پر نہ کہ مذہبی طور پر وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی جتھا ہو“۔( یعنی مذہبی طور پر کوئی درد نہیں تھا لیکن مسلمانوں کی حالت دیکھ کر چاہتے تھے کہ کوئی جتھا ہو، ایک اکٹھ ہو۔تو ایسے لوگ بھی جماعت میں شامل ہوئے اور پھر بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ مذہب پر زیادہ زور ہے تو ان میں سے بہت سارے پھر مختلف وقتوں میں علیحدہ بھی ہو گئے۔خلافت ثانیہ میں ان میں سے بہت سے علیحدہ ہوئے۔آجکل بھی جو مسلمانوں میں، نوجوانوں میں جوش ہے جو غلط طور پر جا کر بعض دہشتگرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ قومی طور پر ہمارا ایک جتھا ہونا چاہئے یا ایک ایسا گروہ ہونا چاہئے جس سے مسلمانوں کی قومیت کا احساس پیدا ہو اور مذہبی طور پر وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔اور بعض