خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 202 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 202

خطبات مسرور جلد 13 202 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015ء رپورٹس جو وہاں سے، عراق اور سیریا سے آتی ہیں ان میں یہی ہے کہ بہت سارے کام ان کے ایسے ہیں جب ان سے پوچھو کہ یہ قرآن اور حدیث کے مطابق نہیں ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا نہیں پتا۔ہمیں تو جو کچھ بتایا گیا ہے اور یہ جو ہماری ایک انفرادیت قائم ہو رہی ہے اس کو ہم نے اسلام کے نام پر قائم کرنا ہے تو اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قومی طور پر وہ چاہتے ہیں کہ ہم اکٹھے ہوں۔ان میں کچھ تنظیم ہو، ان میں انجمنیں قائم ہوں اور مدر سے جاری ہوں۔“ ( بعض قومی طور پر یہ نیک کام کرنا چاہتے ہیں۔مگر چونکہ عام مسلمانوں کا کوئی جتھا بنانا ان کے لئے ناممکن تھا اس لئے جب انہوں نے ہماری طرف ایک جتھا دیکھا تو وہ ہم میں آئے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ مدر سے قائم کریں اور لوگ ڈگریاں حاصل کریں۔اسی وجہ سے وہ ہمارے سلسلے کو ایک انجمن سمجھتے ہیں ، مذہب نہیں سمجھتے۔تو دنیا میں ترقیات کے جو ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں اور دین میں جو ترقی کے ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں۔انجمنیں اور طرح ترقی کرتی ہیں اور دین اور طرح۔دین کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اخلاق کی درستگی کی جائے ، ( دین کی ترقی کے لئے ضروری چیز ہے کہ اخلاق درست ہوں۔اعلیٰ اخلاق ہوں۔” قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کیا جائے۔نمازیں پڑھی جائیں ( تا کہ روحانیت میں ترقی ہو۔) روزے رکھے جائیں، اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کیا جائے ،اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا جائے۔اگر ہم یہ تمام باتیں کریں تو گودنیا کی نگا ہوں میں ہم پاگل قرار پائیں گے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم سے زیادہ عقلمند اور کوئی نہیں ہوگا۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ مسلمان جب مالی قربانیاں کرتے تو منافق کہا کرتے کہ یہ مسلمان تو احمق ہیں۔بس روپیہ برباد کئے چلے جارہے ہیں۔انہیں کچھ ہوش نہیں کہ اپنے روپیہ کوکسی اچھے کام پر لگائیں۔اسی طرح جب وہ اوقات کی قربانی کرتے تو پھر وہ کہتے کہ یہ تو پاگل ہیں۔اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔انہوں نے ترقی خاک کرنی ہے۔گویا مسلمانوں کو یا وہ احمق قرار دیتے یا ان کا نام مجنون رکھتے۔یہی دو نام انہوں نے مسلمانوں کے رکھے ہوئے تھے۔مگر دیکھو پھر وہی احمق اور مجنوں دنیا کے عقلمندوں کے استاد قرار پائے۔پس ہماری جماعت جب تک وہی احمقانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق احمقانہ قرار دیتے تھے اور ہماری جماعت جب تک وہی مجنونانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق مجنونانہ رویہ قرار دیتے تھے اس وقت تک اسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر جھوٹ بھی بول لیا کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر دھوکہ فریب کر بھی