خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 200

خطبات مسرور جلد 13 200 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2015 ء یہ صرف اشتہاروں کی بات نہیں ہے۔باقی معاملات میں بھی جب خود پسندی اور شہرت کی بات دماغ میں سما جائے اور انسان اس کے لئے کوشش کرے تو پھر اس کا فائدہ کوئی نہیں ہوتا بلکہ نقصانات زیادہ ہوتے ہیں۔اب تو تبلیغ کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنی وسعت پیدا ہو چکی ہے کہ اگر کوئی انفرادی طور پر پمفلٹ شائع کرے تو وہ بہت معمولی ہوگالیکن بہر حال اپنے حلقے میں ہی خود پسندی کا تھوڑا بہت اظہار ہو جاتا ہے لیکن اگر نیک نیتی سے ہو، یہ بھی نہیں کہ ہر کوئی صرف خود پسندی کی خاطر کر رہا ہوتا ہے بعض نیک نیت بھی ہوتے ہیں تو جہاں خود شائع کر رہے ہوں اگر ان کے خیال میں وہ اچھی چیز ہے تو پھر اسے وسعت بھی دینی چاہئے ، پھیلانا چاہئے۔اس لئے اگر کوئی فائدہ مند خیال کسی کے دل میں آتا ہے جس سے اشتہار بہتر طور پر بن سکے اور جاذب نظر بھی ہو۔لوگوں کی توجہ کھینچنے والا بھی ہو، مضمون بھی اس میں اچھا ہو تو وہ جماعتی نظام کو پھر دے دینا چاہئے۔اگر اس قابل ہو تو پھر جماعتی نظام اس کو شائع کرتا ہے۔اب حضرت مصلح موعود کے حوالے سے بعض متفرق قسم کی باتیں جو صحابہ کے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔وو حضرت مسیح موعود کا چہرہ / تصویر دیکھ کر ہی کہنا کہ یہ جھوٹوں کا چہرہ نہیں ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ” جب شہدائے افغانستان پر پتھر پڑتے تھے تو وہ گھبراتے نہیں تھے بلکہ استقامت اور دلیری کے ساتھ ان کو قبول کرتے تھے اور جب بہت زیادہ ان پر پتھر پڑے تو صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید ، نعمت اللہ خان (صاحب) اور دوسرے شہداء نے یہی کہا کہ یا الہی ! ان لوگوں پر رحم کر اور انہیں ہدایت دے۔بات یہ ہے کہ جب عشق کا جذبہ انسان کے اندر ہو تو اس کا رنگ ہی بدل جاتا ہے، اس کی بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے چہرے کی نورانی شعائیں لوگوں کو کھینچ لیتی ہیں۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ” مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں یہاں (یعنی قادیان میں ) ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو یہی کہا کہ یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہوسکتا۔انہوں نے ایک لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ سنا اور ایمان لے آئے۔“ (اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 96) یہ مثالیں تو آجکل بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔مجھے کئی خطوط آتے ہیں جن میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دیکھی تو دیکھ کرہی یہ کہا کہ یہ منہ جھوٹے کا نہیں ہوسکتا اور بیعت کر لی۔