خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد 13 186 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء ستائیسویں سورج کو گرہن لگے گا۔ستائیسویں لکھا گیا اٹھائیسویں سورج ہونا چاہئے۔یہ پنجابی کے ان شعروں کا ترجمہ ہے۔بہر حال کہتے ہیں ان نشانیوں کے بارے میں گھر گھر تذکرہ ہوتا تھا اور عام لوگوں میں امام وقت کی جستجو تھی۔ان حالات میں مولانا تاج محمود صاحب اور دیگر چند بزرگوں نے با ہمی مشورہ کیا اور ایک وفد تشکیل دیا جو قادیان جا کر مہدی علیہ السلام کو دیکھیں اور تمام نشانات جو مہدی موعود کے متعلق مختلف روایات میں ہیں ان کے پورا ہونے کا بغور جائزہ لیں اور اگر وہ نشانات پورے ہوں تو ان کی بیعت کر لی جائے۔اس وفد میں جن اشخاص کا انتخاب ہوا اُن میں سر فہرست تین اشخاص تھے۔شیخ امیر الدین صاحب، میاں صاحب دین صاحب اور میاں محمد یا ر صاحب۔یہ وفد پیدل روانہ ہوا۔زادراہ کے طور پر ان دونوں کے پاس اس وقت کی رائج کرنسی کے مطابق صرف ڈیڑھ روپیہ تھا۔( بعض روایات میں ہے دو آدمیوں کا وفد گیا تھا۔صرف میاں صاحب دین اور شیخ امیر الدین تو بہر حال یہ کہتے ہیں ان دونوں آدمیوں کے پاس صرف ڈیڑھ روپیہ تھا) اور مارچ کا مہینہ تھا۔گندم پکنے کے قریب تھی۔یہ لوگ پیدل ہی روزانہ دس بارہ میل کا سفر کرتے تھے۔جب بھوک لگتی تھی تو وہاں زمینداروں کی جو گندم پکی ہوئی ہوتی تھی ان سے سٹے لے لئے اور سٹے بھون کے کھاتے تھے اور گزارہ کرتے تھے۔اگر کوئی آبادی یا ڈیرہ قریب ہوتا تو وہاں رات بسر کرتے۔بہر حال سینکڑوں کوس کی مسافت طے کرتے ہوئے ( تقریباً ڈیڑھ پونے دو سو میل کے قریب تو سفر بنتا ہوگا ) جب یہ دونوں ساتھی ( بعض روایتوں کے مطابق تینوں ساتھی ) بٹالہ کے قریب پہنچے تو وہاں پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے شاگردوں نے آلیا۔ان سے قادیان کا راستہ دریافت کیا گیا۔انہوں نے قادیان جانے کی وجہ پوچھی۔مقصد معلوم ہونے پر ان کے شاگردوں نے قادیان جانے سے منع کیا اور کہا کہ جس شخص نے مہدی ہونے کا دعوی کیا ہوا ہے وہ تو نعوذ باللہ جھوٹا ہے کیونکہ اس نے ایک نہیں سات دعوے کئے ہوئے ہیں۔تم کس کس دعوے پر ایمان لاؤ گے۔لہذا یہیں سے واپس چلے جاؤ۔یہ سن کر شیخ امیر الدین صاحب نے جواب دیا ( پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن جواب بڑا دیا۔کہنے لگے ) کہ اگر اس نے سات مختلف دعوے کئے ہیں تو بھی وہ سچا ہے۔اس نے تو ابھی اور بھی دعوے کرنے ہیں۔اور دلیل انہوں نے اپنے مطابق یہ دی کہ مثلاً یہاں پر تم سب سات آدمی ہو اور میں اکیلا ہوں۔تم سب میرے ساتھ مقابلہ کرو اور کشتی کرو۔اگر میں تم سب کو پچھاڑ دوں تو پھر میں ایک ہوا یا سات۔یعنی سات پر بھاری ہوگیا اور فرمایا کہ امام الزماں نے تو ساری دنیا کے مختلف مذاہب کا مقابلہ کرنا ہے۔اس لئے ان کے اور بھی دعوے ہوں