خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 185
خطبات مسرور جلد 13 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015 ء زمین صلیبی غلبہ کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔“ ( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 509507) اور ایک جگہ آپ نے فرمایا کہ : ”ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صد ہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلت۔کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعوی کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلا د عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بیشک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلت دیکھتے ہوں گے۔“ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 33) اس کے بعد اب میں بعض صحابہ کے واقعات بیان کرتا ہوں۔حضرت غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ”خاکسار کے گاؤں میں پہلے پہل ایک صاحب مولوی بدرالدین صاحب نامی تھے۔ان دنوں میں فدوی کی عمر قریباً پندرہ برس کی ہوگی۔بندہ مولوی بدرالدین صاحب کے گھر کے سامنے ان کے ہمراہ کھڑا تھا کہ دن میں سورج کو گرہن لگا اور مولوی صاحب نے فرمایا : سبحان اللہ ! مہدی صاحب کے علامات ظہور میں آگئے اور ان کی آمد کا وقت آ پہنچا۔بعد کچھ عرصہ گزرنے کے مولوی صاحب احمدی ہو گئے۔مولوی صاحب بہت ہی مخلص اور نیک فطرت اور پرا خلاص تھے۔انہوں نے اپنے والدین اور بیوی کو ایک سال تک کوشش کر کے احمدی کیا۔“ ( رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 6 صفحہ 305، 306 روایت حضرت غلام محمد صاحب ولد علی بخش صاحب سکنه قادر آباد ضلع امرتسر ) پھر حافظ محمد حیات صاحب آف لالیاں نے ایک مضمون لکھا تھا لالیاں میں احمدیت۔وہ لکھتے ہیں۔نشان کسوف و خسوف سے دلوں میں تحریک پیدا ہوئی۔کہتے ہیں : اسی طرح 1894ء میں سورج اور چاند گرہن کے نشان کے پورا ہونے کی وجہ سے بھی لوگوں کے دلوں میں یہ جستجو پیدا ہوئی کہ امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہے اور قیامت قریب ہے۔روایات سے پتا چلتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں گھبراہٹ کا عالم طاری تھا کہ اب کیا ہوگا۔قیامت آ پہنچی ہے۔اسی زمانے میں ان نشانات کا اکثر تذکرۃ تھا۔چنانچہ حافظ محمد لکھو کے نے اپنی احوال الآخرۃ میں امام مہدی کے ظہور کے نشانات کا اپنے پنجابی کلام میں ذکر کیا تھا۔اسی طرح لالیاں کے ایک سجادہ نشین اور صوفی شاعر میاں محمد صدیق لالی نے بھی انہی نشانات کا اپنے کلام میں ذکر کیا۔(یعنی ان نشانیوں کے بارے میں اس میں لکھا تھا۔) تیرھویں چن اور چاند کو اور