خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 187 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 187

خطبات مسرور جلد 13 187 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء گے۔اس پر وہ سب لا جواب ہو گئے اور کہا میاں تم اپنی راہ لولیکن راستہ پھر بھی نہیں بتایا۔کہتے ہیں تھوڑی دور آگے ہم گئے۔کسی سکھ کا چائے کا کھوکھا تھا۔اس سکھ نے چائے وغیرہ بنادی۔بسکٹ وغیرہ پیش کئے۔شیخ صاحب نے بٹالوی صاحب کے شاگردوں کا واقعہ اور رویہ سکھ سے بیان کیا جس پر اس نے افسوس کا اظہار کیا۔سکھ نے کہا کہ میں تمہیں راستہ بتا تا ہوں۔آپ ضرور قادیان جائیں۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعوے میں سچا ہے۔( حضرت مسیح موعود کے بارے میں فرمایا۔) پھر کہنے لگا کہ ہم مرزا صاحب کو جانتے ہیں۔چنانچہ وہ سکھ دُور تک ساتھ گیا اور راستے پر چھوڑا جو سیدھا قادیان جاتا تھا۔اس وقت قادیان کا کوئی پختہ راستہ نہیں تھا۔جب یہ دونوں ساتھی قادیان پہنچے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔مجلس لگی تھی۔چند غیر از جماعت علماء اور گدی نشین اس مجلس میں بیٹھے تھے جن سے حضرت اقدس مکالمہ مخاطبہ فرمارہے تھے اور ان کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمارہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ تحریر میں بھی مصروف تھے۔یہ بھی ایک نشان تھا کہ آپ ایک طرف تحریر فرما رہے تھے اور قلم چل رہا تھا جیسے کوئی غیب سے مضمون دل میں اتر رہا ہے اور دوسری طرف مجلس میں بیٹھے لوگوں سے گفتگو فرمارہے ہیں۔قلم میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی تھی۔ان ساتھیوں کا تعارف حضور سے کروایا گیا۔شیخ صاحب نے عرض کیا کہ حضور ہم لالیاں سے آئے ہیں۔حضور نے پوچھا کہ لالیاں کہاں ہے؟ (اکثر لوگ تو جانتے ہوں گے۔جو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لئے بتا دوں کہ لالیاں ربوہ سے تقریباً آٹھ میل کے فاصلے پر اب ایک قصبہ بلکہ شہر بن چکا ہے۔بہر حال یہ اس زمانے میں یہاں سے گئے تھے۔اس وقت مجلس میں حضرت حکیم مولانا نورالدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے جن کا تعلق بھیرہ سے تھا۔اس لئے لالیاں کے بارے میں وہ جانتے تھے۔انہوں نے عرض کیا حضور ! لالیاں کڑا نہ اور لک بار کے پاس ہے۔جس پر حضور نے فرمایا کہ ہاں ہاں وہ لک اور لالی۔( کیونکہ لالی کا شعر سن چکے تھے۔شاید اس لئے علم میں ہو۔) حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ ہمارے پڑوسی ہیں۔چونکہ شیخ صاحب اور صاحب دین صاحب ان پڑھ تھے اس لئے وہ بولے ہاں حضور ہم بھی (پنجابی میں کہنے لگے ) ان کے گوانڈھی ہیں۔پھر سفر کے تمام حالات اور واقعات حضور کے سامنے عرض کئے۔جب حضور نے بٹالوی صاحب کے شاگردوں کا واقعہ سنا تو حضور نے فرمایا۔دیکھو یہ کیسا آن پڑھ شخص ہے۔اس نے کیسا جواب دیا۔لاجواب کر دیا۔اس کو کس نے سکھایا۔اس کو خدا نے سکھایا۔یہ الفاظ حضور نے تین مرتبہ دہرائے۔حضور نے پھر ان کو ارشاد فرمایا کہ آپ