خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 162

خطبات مسرور جلد 13 162 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء وہ اس کے لئے ہمیشہ کوشش کرتا رہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مومن کبھی اللہ تعالیٰ کی خشیت اور خوف سے خالی نہیں ہوتا اور نہ ہونا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ آپ جب بھی رات کو اٹھتے تو نہایت عجز اور انکسار سے دعائیں کرتے۔ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کی اسی حالت کو دیکھ کر عرض کیا کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ معاف کر دیا ہے۔آپ کو اتنے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔اتنی خشیت سے اپنے لئے دعائیں کیوں کرتے ہیں؟ اپنے لئے اتنی خشیت کیوں ہے؟ (صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب ليغفر لك ما تقدم من ذنبک و ماتأخر۔۔۔حديث نمبر 4837) بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بھی فرمایا تھا جیسا کہ میں نے کہا کہ انسان کے خون میں شیطان ہے تو آپ نے فرمایا تھا کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔(صحیح مسلم کتاب صفات المنافقین و احكامهم باب تحريش الشيطان وبعثه۔۔۔حدیث نمبر 7108) یعنی کسی روحانی بیماری کے حملہ آور ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میری نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہے۔مجھے بھی ہر وقت اس کی طرف جھکے رہنے کی ضرورت ہے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سب کے باوجود اس قدر خشیت کا اظہار کرتے ہیں تو پھر اور کون ہے جو کہہ سکے کہ مجھے ہر وقت ہر کام میں کل پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں اور کام کر کے پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔پس ہر وقت ہشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ہر وقت تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے کاموں اور اپنی حالتوں کے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اس کا رحم مانگنے کی ضرورت ہے۔ہر وقت یہ خیال دل میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں نے اپنے ایمان کو کس طرح بچانا ہے۔اور اس کی طرف جو اگلی آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا کیونکہ پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے آپ سے غافل کر دے گا۔جیسا کہ میں نے مثال دی ہے کہ روحانی بیماری والے اپنے آپ کو بیمار نہیں سمجھتے بلکہ ان کے ہمدرد جب ان کو بیار سمجھ کر ان کا علاج کروانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ الٹا ان ہمدردوں کو بیمار اور پاگل سمجھنے لگ جاتے ہیں۔گویا روحانی بیماری ان کو اپنے نفس کی حالتوں کو دیکھنے سے بالکل لا پرواہ کر دیتی ہے اور پھر نتیجہ سوائے تباہی اور بربادی کے اور کچھ نہیں نکلتا۔یادرکھنا چاہئے کہ عموماً انسان خدا تعالیٰ کو تین طریقوں سے بھلاتا ہے یا یہ تین قسم کے لوگ ہیں جو ہمیں عموماً دنیا میں نظر آتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے دُور