خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 161
خطبات مسرور جلد 13 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء بہت سی بیماریاں انسان کو اس لئے نقصان پہنچاتی ہیں کہ وہ خون میں گردش کر رہی ہوتی ہیں۔آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور ایک وقت میں آ کر جسم پر بہت زیادہ اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہیں۔کسی وجہ سے انفیکشن ہو جاتا ہے اور اس کا اثر ہو جاتا ہے تو انسان کو شروع میں پتا نہیں چلتا کہ بیماری نے حملہ کر دیا ہے۔بلکہ بہت ہی کوئی محتاط ہو، ذراسی کسل مندی کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس جائے بھی تو ابتدائی حالت میں بعض ڈاکٹروں کو بھی پتا نہیں چلتا کہ بیماری اندر ہے، خون میں گردش کر رہی ہے۔اور یہ بیماریاں آتی ہیں جیسا کہ میں نے کہا فضا میں بعض دفعہ جراثیم ہوتے ہیں ایک دوسرے سے بیماریاں لگتی ہیں اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں بہت ساری وبائیں پھیلی ہوئی ہیں جن کا شروع میں پتا نہیں لگتا۔آہستہ آہستہ جب پھیل جاتی ہیں تب پتا لگتا ہے۔لیکن آجکل کے زمانے میں جو سب سے خطرناک چیز ہے وہ اس زمانے میں روحانی بیماریاں ہیں۔اور روحانی بیماریوں کی تو فضا میں بھر مار ہوئی ہوئی ہے اور انسان کو پتا نہیں لگتا کہ کس وقت شیطان ہمارے خون میں چلا گیا ہے اور روحانی بیماری کو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔لیکن شیطان کے خون میں گردش کرنے سے جو بیماری آتی ہے وہ جسمانی بیماری کی نسبت اس لحاظ سے زیادہ خطرناک ہے کہ جسمانی بیماری سے جسم پر اثرات پڑنے شروع ہوتے ہیں۔جسم ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔کسل مندی کی کیفیت ہو جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ مزید تکلیف بڑھتی ہے۔انسان خود محسوس کرتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کہ میں بیمار ہوں مجھے دوائی دو۔لیکن روحانی بیماری خطر ناک اس وجہ سے ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے انسان دُور ہتا ہے اور شیطان کے حملے کے نیچے آ جاتا ہے تو تب بھی خود کو بیمار محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو اچھا ہی سمجھتا ہے۔لیکن جب اس کے دوستوں، اس کے ہمدردوں کو پتا چلتا ہے کہ یہ بیمار ہے تو وہ اس کو سمجھاتے ہیں۔جو بیماری کی انتہا کو پہنچ جائیں وہ دوستوں کے کہنے پر بھی خود کو بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کو غلط سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ میرے دوست مجھے غلط کہ رہے ہیں۔پس شیطان کا حملہ یا روحانی بیماری جو ہے جسمانی بیماری سے بہت زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بسا اوقات اس کے علاج کے لئے انسان تیار نہیں ہوتا۔دوسرے توجہ بھی دلائیں کہ علاج کروالو تو اس طرف توجہ نہیں ہوتی۔پس ایک مومن کو اس سے پہلے کہ بیماری حملہ کرے اپنے جائزے لیتے ہوئے حفظ ما تقدم کے عمل کو شروع کر دینا چاہئے اور اس معاشرے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ روحانی بیماریاں مستقل فضا میں پھیلی ہوئی ہیں اس لئے اپنے آپ کو بچانے کے لئے مستقل عمل کی بھی ضرورت ہے یا مستقل علاج کی بھی ضرورت ہے۔حفظ ما تقدم کی ضرورت ہے اور یہی ایک حقیقی مومن کے لئے ضروری ہے اور اس کو چاہئے کہ