خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد 13 163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 مارچ2015ء ہیں یا دُور ہوتے ہیں۔ایک تو وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے وجود کے انکاری ہیں اور بڑی ڈھٹائی سے کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کوئی چیز نہیں ہے۔جیسا کہ آج کل کی بہت بڑی تعداد اسی نظریے پر قائم ہے جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا کہتے ہیں۔اپنی تعلیم پر بڑا زعم ہے اور یہ لوگ میڈیا اور انٹرنیٹ اور مختلف طریقوں سے نوجوانوں اور کچے ذہنوں کو اپنے خیالات سے زہر آلود کرتے رہتے ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو حقیقی اور سچا ایمان تمام طاقتوں والے خدا پر نہیں ہے جس کے سامنے انہیں ایک دن پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔باوجود اس کے کہ یہ ایمان ہے یا اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ایک خدا ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور اس کے تابع ایک نظام چل رہا ہے لیکن پھر بھی اس کے کہنے پر عمل نہیں ہے۔تیسرے وہ لوگ ہیں جو دنیاوی بکھیڑوں میں اس قدر ڈوب گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہیں۔کبھی خیال آ جائے تو نماز بھی پڑھ لیں گے ، دعا بھی کر لیں گے لیکن کوئی باقاعدگی نہیں ہے۔اس طرف توجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کو بھلاتے ہیں وہ آخر کار ایسی حالت کو پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا اخلاقی انحطاط بھی ہوتا ہے اور روحانی تنزل بھی ہوتا ہے اور آخر کا ر ذ ہنی سکون بھی جاتا رہتا ہے۔وہ سمجھتے تو یہ ہیں کہ دنیا کے کاموں میں ان کے فوائد ہیں۔اس لئے یہ تو پہلے کرو۔خدا تعالیٰ کے حق بعد میں ادا ہوتے رہیں گے۔کیونکہ دنیاوی منفعت میں بظاہر انہیں فوری آرام اور آسائش نظر آ رہے ہوتے ہیں۔لیکن جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ پھر اللہ تعالیٰ ایسا سلوک کرتا ہے کہ فَانسُهُمُ انْفُسَهُمُ۔اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا اور ایسے لوگ کبھی ذہنی سکون نہیں پاتے۔پس مومنوں کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر حقیقی تقویٰ تمہارے اندر ہے اور تم مومن ہو، خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین رکھتے ہو، اس کی وحدانیت پر ایمان ویقین ہے تو پھر ان شرائط کے مطابق اپنی زندگی بسر کرو جن کے مطابق زندگی بسر کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اپنے ہر کام کے انجام کو دیکھو اور اس یقین پر قائم ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ تمہارے ہر عمل اور فعل کو دیکھ رہا ہے اور جب انسان کی ایسی سوچ ہو تو پھر ہر کام کرنے کا انداز ہی بدل جاتا ہے اور انسان خود محسوس کرتا ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل بھی مجھ پر بڑھ رہے ہیں۔