خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد 13 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 فروری 2015 ء سے جمع کیا تھا۔انہوں نے اس چندے میں سے دوسور و پہیہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لئے دیا اور کہا کہ جب خزانہ میں روپیہ آنا شروع ہو جائے گا تو یہ دوسو روپیہ ادا ہو جائے گا۔غرض وہ روپیہ ان سے قرض لے کر یہ اشتہار شائع کیا گیا۔مگر اس وقت جب جماعت کے سر کردہ لوگ میرے مخالف تھے۔جب جماعت کے لیڈر میرے مخالف تھے۔جب جماعت کا خزانہ خالی تھا۔جب صرف چودہ آنے کے پیسے اس میں موجود تھے۔( چودہ آنے کا مطلب ہے ایک روپیہ میں سولہ آنے ہوتے ہیں۔پورا ایک روپیہ نہیں تھا۔آجکل کے حساب سے ستاسی اٹھاسی پیسے۔) اور جب اٹھارہ ہزار کا انجمن پر قرض تھا۔جب انجمن کی اکثریت میرے مخالف تھی۔جب انجمن کا سیکرٹری میرا مخالف تھا۔جب مدرسے کا ہیڈ ماسٹر میر ا مخالف تھا۔میرے یہ الفاظ ہیں جو میں نے خدا کے منشاء کے ماتحت اس اشتہار میں شائع کئے کہ خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادے کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔فرمایا کہ پھر میں نے لکھا کہ اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہوسکتی اور سب کے سب خدا نخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی میری خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے نبی اکیلا ہی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلے کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بوجھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اس کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔غرض طرح طرح کی مخالفتیں ہوئیں۔سیاسی بھی اور مذہبی بھی۔اندرونی بھی اور بیرونی بھی مگر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں جماعت کو اور زیادہ ترقی کی طرف لے جاؤں۔(ماخوذ از ” میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں“۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 219 تا 221) وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ایک پیشگوئی یہ بھی کی گئی تھی کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کو میرے ذریعہ سے پورا کیا۔اول تو اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ان قوموں کو ہدایت دی جن کی طرف مسلمانوں کو کوئی توجہ نہیں تھی اور وہ نہایت ذلیل اور